قرآن کی سورہ ص میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: قُلْ مَآ اَسْـَٔــلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ (38:86) یعنی کہو کہ میں اِس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں تکلف کرنے والوں میں سے ہوں:
Say, “I do not ask you for any recompense for this, nor am I a man of pretentions”.
اصل یہ ہے کہ دنیا میں کام کرنے کے دوطریقے ہیں— ایک ہے مشن کے طورپر کرنا اور دوسرا ہے پروفیشن کے طورپر کرنا- پروفیشن کے طورپر کام کرنے والے کا نشانہ کسبِ مال یا کسب منفعت ہوتا ہے- مثلاً میڈیکل پروفیشن، لیگل پروفیشن، ٹیچنگ پروفیشن، وغیرہ- پروفیشن کے طورپر جو شخص کام کرے، وہ اُس وقت اپنے پروفیشن کو چھوڑ دیتا ہے یا بدل دیتا ہے جب کہ اس کو اپنے پروفیشن سے نفع نہ ملے،لیکن مشن کا معاملہ اِس سے مختلف ہے- مشن آدمی کا مقصدِ حیات ہوتا ہے- ایسا آدمی نفع اور نقصان سے بلند ہو کر اپنے مشن کو جاری رکھتا ہے، یہاں تک کہ اِسی حال میں اس کو موت آجائے-
پیغمبرپورے معنوں میںایک صاحبِ مشن انسان ہوتا ہے- اس کا مشن ہی اس کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے- پیغمبر کی رہنما اس کی اپنی معرفت ہوتی ہے، نہ کہ دوسروں کا رویہ، وہ دوسرے کے رد عمل سے اوپر اٹھ کر اپنا کام انجام دیتاہے- پیغمبر کا یہی نمونہ داعی سے بھی مطلوب ہے- حق کا داعی صرف وہ شخص ہے جو پیغمبر کے اِس نمونے پر پورا اترے ،جس کا دعوتی اسلوب خالص حق کی معرفت کی بنیاد پر بنا ہو، جو کسی بھی اعتبار سے اجر کا طالب نہ ہو- مال یا شہرت یا مقبولیت یا کوئی بھی مادی انٹرسٹ (material interest) اس کا مقصود نہ ہو- اِسی لیے دعوت کے کام کو دعوت الی اللہ کا کام کہاگیا ہے- داعی کو اِس کی پروا نہیں ہوتی کہ لوگ اس کی بات کو پسند کریں گے یا ناپسند- وہ چیزوں کو صرف اللہ کی نسبت سے دیکھتا ہے، نہ کہ انسان کی نسبت سے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔