Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2014
Al-Risala March 2014

جنت کا تمدنی تعارف

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ محمد میں بتایا گیا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیںگے۔ اِس سلسلے میں قرآن میں یہ آیت آئی ہے: وَیُدْخِلُہُمُ الْجَــنَّةَ عَرَّفَہَا لَہُمْ(47: 6)یعنی اللہ اُن کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُس نے اُنھیں پہچان کرادی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کی پہچان سے جنت میں داخلے کا استحقاق پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو لوگ جنت کو پہچان کے درجے میں پالیں، وہی وہ لوگ ہیں جو آخر ت میں واقعہ کے طورپر جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں گے۔

جس آدمی کی معرفت اتنی گہری ہو کہ وہ جنت کا حریص بن جائے، وہ جنت کے اشتیاق میں جینے لگے، ایسا آدمی اِسی دنیا میں جنت کا تعارف حاصل کرلیتا ہے۔ وہ دیکھنے سے پہلے جنت کو دیکھنے لگتا ہے۔ وہ داخلے سے پہلے جنت کا ادراک کر لیتا ہے۔

جنت کا یہ تعارف کسی آدمی کو ابتداء ً قرآن کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن سے کسی آدمی کے اندر جنّتی غور وفکر کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اِس کے بعد جنت کے عملی تعارف کے لیے دو خاص ذریعے ہیں— فطری تعارف، اور تمدنی تعارف۔ فطری تعارف سے مراد وہ تعارف ہے جو مناظرِ فطرت کے ذریعے کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ فطرت کے مناظر گویا کہ جنت کا بعید تعارف ہیں۔

جنت کا تمدنی تعارف پہلی بار موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے۔ جدید تہذیب نے جو ترقی یافتہ دنیا بنائی ہے، وہ گویا کہ جنت کا تمدنی تعارف ہے۔ جدید تہذیب (modern civilization)کی پیداکردہ مادی سہولتیں گویا کہ جنت کی پُر راحت دنیا کا ابتدائی تجربہ کرارہی ہیں۔ مناظرِ فطرت کے ذریعے گویا کہ خود خالق کی طرف سے جنت کے تعارف کا اہتمام کیاگیا ہے— انسان کے اندر اگر معرفت کا شعور بیدار ہوچکا ہو تو وہ مناظرِ فطرت میں جنت کے باغوں کو دیکھے گا، اور جدید تمدنی ترقیوں کے ماحول میں جنت کا ابتدائی مشاہدہ کرے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content