قرآن کی سورہ الجاثیہ کی ایک آیت یہ ہے: وَاٰتَیْنٰہُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْٓا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَہُمُ الْعِلْمُ ۙ بَغْیًۢا بَیْنَہُمْ ۭ اِنَّ رَبَّکَ یَقْضِیْ بَیْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ (45:17) یعنی ہم نے ان کو امرِ دین کے بارے میں کھلی دلیلیں دیں، پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا، مگر اس کے بعد کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا، آپس کی ضد کی وجہ سے- بے شک تیرا رب قیامت کے دن اُن کے درمیان فیصلہ کردے گا، اُن چیزوں کے بارے میں جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے-
قرآن کی اِس آیت میں پچھلے پیغمبروں کا ذکر ہے- اس میں بتایا گیا ہے کہ اِن پیغمبروں کے مخاطبین نے ہمیشہ منفی رسپانس دیا - یہ مخاطبین کون تھے- یہ سب پچھلے پیغمبروں کی امت تھے- ہر آنے والا نبی کسی نہ کسی سابق پیغمبر کی امت میں آیا- مثلاً حضرت نوح امت آدم میں آئے- حضرت ابراہیم امتِ نوح میں آئے- حضرت موسی امتِ اسرائیل میں آئے- حضرت مسیح امتِ موسی میں آئے- حضرت محمد امتِ ابراہیم میں آئے، وغیرہ- ہر بعد کو آنے والے نبی نے پچھلے نبی کی اصل ہدایت کو زندہ کرنا چاہا، مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ لوگوں کی اکثریت پیغمبر کی دعوت کا مثبت رسپانس دینے سے عاجز رہی-
علم آنے کے باوجود لوگوں نے اختلاف کیا — اِس آیت میں علم سے مراد وہ ہدایت ہے جو بعد کے پیغمبر کے ذریعے انھیں پہنچی تھی- اُن کے انکار کا سبب بغی تھا- بغی کا لفظی مطلب ہے: انحراف (transgression)- ہر نبی کی امت کی بعد کی نسلوں میں ابتدائی دین سے انحراف پیدا ہوتا ہے- اس کے بعد مزید ایسا ہوتا ہے کہ علما اور رہنما اپنی اپنی ریاست (leadership) قائم کرنے کے لیے مزید انحرافات کرتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت بہت سے فرقوں میں بٹ جاتی ہے- یہ تمام لوگ نئے پیغمبر کی بات کو ماننے سے انکار کردیتے ہیں- اِس انکار کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک یہ محسوس کرتاہے کہ اگر وہ نبی کی بات مانے تو اس کو اپنے خود ساختہ مذہب کے غلط ہونے کا اعتراف کرنا پڑے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔