قرآن کی سورہ الانشقاق کی چند آیتیں یہ ہیں: فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ وَالَّیْلِ وَمَا وَسَقَ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ فَمَا لَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ (84:16:20) یعنی پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی- اور رات کی اور اُن چیزوں کی جن کو وہ سمیٹ لیتی ہے- اور چاند کی جب وہ پورا ہوجائے، کہ تم کو ضر ور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے، تو انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے:
...you will progress from stage to stage, so what is the matter with them that they believe not. (84:19-20)
قرآن کی یہ آیتیں ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اتریں- اُس وقت اِن آیتوں میں ایک ایسا بیان دیاگیا جو ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اکیسویں صدی کے بعد تک پھیلا ہوا تھا- بعد کے حالات نے قرآن کی اِس پیشین گوئی کو عین درست ثابت کیا- یہ واقعہ، دوسرے واقعات کی طرح، اِس بات کا ثبوت ہے کہ قرآن خداوند عالم الغیب کی کتاب ہے، کیوں کہ عالم الغیب کے سوا کوئی اور مستقبل کے بارے میں اِس قسم کا بیان دینے پر قادر نہیں-علمِ انسانی کی تاریخ بتاتی ہے کہ کائنات کے بارے میں انسان کا مطالعہ جاری رہا، یہاں تک کہ برٹش سائنس داں نیوٹن کے زمانے میں یہ فرض کرلیا گیا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک، مادّہ (matter) ہے- مگر انسانی علم کا سفر مزید آگے بڑھا-بعد کی تحقیقات نے اِس مفروضے کی تردید کردی- جرمن سائنس داں آئن سٹائن کے زمانے میں یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک، انرجی (energy) ہے- مگر انسانی علم کا یہ سفر مزید آگے بڑھا- بعد کی تحقیقات نے بتایا کہ یہ مفروضہ درست نہ تھا- فریڈہائل (Fred Hoyle) کے زمانے میں یہ دریافت ہوا کہ کائنات کا بلڈنگ بلاک انٹیلیجنس (intelligence) ہے- انسانی علم کا یہ سفر جاری رہا، یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں علمی اعتبار سے یہ دریافت ہوگیا کہ کائنات میں ایک انٹیلجنٹ ڈزائن (intelligent design) موجود ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔