بمبئی میں ایک بڑا مسلم تعلیمی ادارہ ہے- اِس کے تحت کئی اسکول اور کئی کالج چل رہے ہیں- اِس ادارے کے ایک اسکول میں ایک مسلمان پرنسپل تھے- کسی بات پر انتظامیہ سے پرنسپل کا جھگڑا ہوگیا- پرنسپل صاحب نے اِس معاملے کو عزت کا سوال (prestige issue) بنالیا- بات مزید بڑھی، یہاں تک کہ پرنسپل صاحب نےانتظامیہ کے خلاف عدالتی کیس قائم کردیا-
مذکورہ پرنسپل کی مجھ سے بات ہوئی- میں نے کہا کہ آپ نے جو کچھ کیا، وہ یقینی طورپر غلط تھا- اب اس کی تلافی صرف یہ ہے کہ آپ اسکول کی انتظامیہ سے معافی مانگیں اور کیس کو یک طرفہ طورپر اٹھالیں- پرنسپل صاحب اپنے پروفیشنل موضوع پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ تیار کررہے تھے، مگر نزاع کی وجہ سے مقالے کا کام رک گیا- میں نے کہا کہ آپ نزاع کو یک طرفہ طورپر ختم کردیں اور اپنی تمام طاقت اپنی ڈاکٹریٹ کو مکمل کرنے میں صرف کریں- پرنسپل صاحب نے میری بات مان لی اور انھوں نے ایسا ہی کیا-انھوں نے اسکول کی انتظامیہ سے معافی مانگی اور کیس کو یک طرفہ طورپر ختم کردیا-
اب اِس واقعے کو کئی سال گزر چکے ہیں- مصالحت کی اِس روش کا فائدہ پرنسپل صاحب کو یہ ملا کہ انتظامیہ کی نظر میں اُن کی تصویر مثبت تصویر بن گئی- انتظامیہ کے ذمے داروں نے پرنسپل صاحب کی اِس صلاحیت کو ازسرِنودریافت کیا، یہاں تک کہ ان کو ترقی دے کر اسکول اور کالج کی ایک تنظیم(organization) کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا-
نزاع کا ماحول ایک قاتل ماحول ہے- نزاع کے ماحول میں یہ ہوتا ہے کہ طرفین ایک دوسرے کے لیے منفی (negative) بن جاتے ہیں- وہ ایک دوسرے کی مثبت صلاحیتوں کو دریافت نہیں کرپاتے- نزاع کا ماحول یک طرفہ طورپر ختم کرنا بظاہر پسپائی ہے، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اس کی حیثیت ایک فاتحانہ اقدام کی ہے— نزاع کی حالت امکان کے دروازے کو بند کرنے والی ہے، اور نزاع کو ختم کرنا امکان کے دروازے کو کھولنے والا ہے- اِسی روش کا نام دانش مندی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.