Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2013
Al-Risala March 2013

شکایت کا سبب

Urdu · 2 min read

سماجی زندگی میں ایک برائی بہت زیادہ عام ہے، اور وہ شکایت ہے- عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو دوسروں سے شکایت ہوجاتی ہے- لوگ دوسروں کی شکایت کا چرچا تو بہت کرتے ہیں، لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی عورت یا مرد خود اپنی غلطی کا چرچا کرے-

شکایت کبھی یک طرفہ نہیں ہوتی، شکایت کا سبب ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے، یعنی ایک کا سلوک دوسرے کو پسند نہیں آیا تو وہ اس کے جواب میں اس کے ساتھ برا سلوک کرنے لگا- اب سوال یہ ہے کہ جب شکایت کے اسباب دو طرفہ ہیں تو ایسا کیوں ہے کہ لوگ صرف دوسروں کی شکایت بیان کرنے کے ماہر بنے ہوئے ہیں- اِس کا سبب یہ ہے کہ شکایت عام طورپر، دو طرفہ اسباب سے پیدا ہوتی ہے، لیکن لوگ یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے حصے کی شکایت کی حسنِ توجیہہ کرلیتے ہیں، اور دوسرے کے حصے کی شکایت کو وہ بہت زیادہ نمایاں کرکے بیان کرتے ہیں- لوگ اگر ایسا کریں کہ دوسرے کی شکایت بیان کرنے سے پہلے خود اپنی غلطی کو بتائیں تو شکایتی نفسیات کا خاتمہ ہوجائے-

اپنے حصے کی غلطی کو ماننے کا ایک اہم فائدہ ہے- ایسا کرنے والے کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو درست کرے- وہ اپنے اندر ایک اصلاح یافتہ شخصیت کی تعمیر کرے- وہ اپنے آپ کو سماج کا ایک بہتر فرد بنائے- اپنی غلطی کا اعتراف بہتر سماج کی تعمیر میں مدد گار ہوتا ہے- اِس کے برعکس، دوسروں کی شکایت کرنا، سماج میں نفرت کا ماحول پیدا کرتا ہے، لوگ دوسروں کے بارے میں غیر ہمدرد ہوجاتے ہیں- ایسے ماحول میں کبھی سماجی اتحاد پیدا نہیں ہوسکتا-

اپنی غلطی کا اعتراف ایک صحت مند اخلاقی ظاہرہ ہے- اِس کے برعکس، دوسروں کی شکایت کرنا ایک ایسا سماج بنانا ہے جس میں اعلی اخلاقی اقدار (moral values) کی پرورش رک جائے- صحیح ذہن وہ ہے جو محاسبۂ خویش (self-introspection)پر مبنی ہو، نہ کہ شکایتِ غیر پر- محاسبہ خویش ہر حال میں مفید ہے، جب کہ شکایتِ غیر کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.