← Al-Risala March 2013Al-Risala March 2013
معرفت کا سفر
Urdu · 12 min read
نومبر 1959 کا واقعہ ہے۔ آریہ سماج نے اپنی گولڈن جُبلی (golden jubilee) منائی۔ اِس سلسلے میں مختلف مقامات پر ان کے پروگرام ہوئے۔بجنور (سیوہارہ) میں 29نومبر 1959 کو ایک آل مذاہب کانفرنس ہوئی۔ اِس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں کو بلایا گیا۔ اُن سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں ایک سوال کا جواب دیں۔ وہ سوال یہ تھا— گیان کا آغاز کس طرح ہوا:
How was the beginning of knowledge.
اِس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی، اِس سفر میں میرے ساتھ مولانا محمد عبد الحی رام پوری (وفات: 1987 ) بھی تھے۔ اِس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اس میں شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں وہاں ایک تقریر کی۔ یہ تقریر ’’اسلام کا تعارف‘‘ کے نام سے ایک پمفلٹ کی صورت میں چھپ چکی ہے۔ اِس کانفرنس کے چیر مین مراد آباد کے ایک ہندو وکیل تھے۔ وہ خود بھی آریہ سماج کے ایک ممبر تھے۔ انھوںنے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ— تمام تقریروں میں صرف ایک تقریر تھی جو موضوع سے متعلق (relevant) تھی اور وہ مولانا صاحب کی تقریر تھی- بقیہ تقریروں میں اصل سوال کا جواب نہیں دیاگیا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اُس وقت میں نے انگریز مصنف جولین ہکسلے (Sir Julian Sorell Huxley) (وفات: 1979) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ لوگ زندگی اور کائنات کو صرف ایک حادثاتی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ چھ بندر ایک ایک ٹائپ رائٹر لے کر بیٹھ جائیں اور ملین اور ملین سال تک الل ٹپ طریقے سے ان کو پیٹتے رہیں، تو ہوسکتا ہے کہ ان کے سیاہ کیے ہوئے کاغذات کے ڈھیر میں کسی صفحے پر شیکسپئر کی ایک نظم (Sonnet) نکل آئے۔ اِس طرح ملین اور بلین سال تک مادّے کے اندھے عمل کے دوران بالکل اتفاق سے یہ دنیا بن گئی ہے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس طرح کی مثالیں یہ تاثر پیدا کرنے کے لیے دی جاتیں ہیں کہ اِس دنیا میں زندگی کا سفر کوئی شعوری سفر نہیں، وہ صرف بے شعوری کا ایک معاملہ ہے۔ افکار کی تاریخ اتفاقی اسباب کے تحت پیش آنے والے ایک بے شعوری سفر کی کہانی ہے۔ لیکن راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، یہ درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر مکمل طورپر شعور کے تحت پیش آنے والاایک سفر ہے۔ وہ ایک ابتدائی منزل سے اپنی آخری منزل کی طرف چلا جارہا ہے۔ معرفت کا سفر انسان کی ایک شعوری ضرورت ہے۔ یہ ہر انسان کی ایک ذاتی ضرورت ہے، خواہ اس نے اِس کا اعلان کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گیان (معرفت) کے آغاز کا سوال ایک نہایت سنجیدہ سوال ہے۔ میں برابر اِس تلاش میں رہا ہوں کہ اِس سوال کا زیادہ واضح جواب معلوم کروں۔ یہ سوال میرے ذہن میںتقریباً 40 سال تک رہا۔ حال میں انتھراپالوجی (Anthropology) کے ایک سروے میں مجھے اس کا جواب ملا۔ محققین کے مطابق، یہ جواب آرکیالوجی کے شواہد (archaelogical findings) پر مبنی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بتایا جاتا ہے کہ اسٹون ایج (stone age) میں دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو مارنے کے لیے ایک دوسرے کی طرف پتھر پھینکا۔ دونوں پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ اِس ٹکرانے کے سبب سے وہاں اسپارکنگ (sparking) ہوئی، یعنی دونوں پتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری نکلی۔ یہ ظاہرہ دونوں آدمیوں کے لیے نیا تھا۔ اب وہ دونوں آپس کا اختلاف بھول کر وہاں بیٹھ گئے اور دو پتھروں کو آپس میں ٹکرا کر چنگاری نکالنے لگے۔
دوپتھروں کے ٹکرانے سے چنگاری کیوں نکلتی ہے۔ اِس کا سبب یہ نہیں ہے کہ خود اِن پتھروںکے اندر پہلے سے چنگاری موجود ہوتی ہے اور وہ ٹکراؤ کے وقت ان کے اندر سے نکل آتی ہے، بلکہ اِس چنگاری کا سبب خارج میں ہے۔ اصل یہ ہے کہ فضا میں مختلف قسم کی گیسیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہوا اِن گیسوں کا مجموعہ ہے۔ اِن میں سے ایک گیس وہ ہے جس کو ہائڈروجن (hydrogen) کہاجاتا ہے۔ ہائڈروجن ایک بھڑک اٹھنے والی گیس(inflammable gas) ہے۔ جب پتھر کے دوٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جاتا ہے تو فضا میں موجود ہائڈروجن کا کچھ حصہ اِس ٹکراؤ کی زد میں آجاتا ہے اور اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو بلاشبہہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے انسانی تاریخ میں گیان (معرفت) کا آغاز ہوا۔ اِس واقعے کا ایک نہایت اہم پہلو تھا، وہ یہ کہ اس واقعے نے انسان کو بتایا کہ معلوم یا مشہود دنیا کے ماورا بھی ایک دنیا موجود ہے:
There is an invisible dimension beyond the visible world.
یہ مسئلہ ہسٹری آف تھاٹ (History of Thought) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ہسٹری آف تھاٹ کے بارے میں ماضی کے بہت کم واقعات تاریخ میں ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ اِس لیے اس معاملے میں کوئی تفصیلی نقشہ نہیں بنایا جاسکتا۔ تاہم قیاساً یہ کہاجاسکتا ہے کہ غالباً یہی واقعہ تھا جس سے انسانوں کے درمیان گیان (معرفت) کے سفر کا آغاز ہوا اور پھر ایک کے بعد ایک، چیزیں دریافت ہوتی چلی گئیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر دریافت نے صرف یہ بتایا کہ اس کے آگے بھی علم کی کوئی سطح موجود ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئی:
Every discovery tells us that there is something more to discover.
مثلاً حضرت مسیح سے ہزار سال پہلے عراق میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے وقت کے بادشاہ نمرود (Nemrud) کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ یہ خدا ہے جو سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے اور اس کو مغرب کی طرف لے جاتا ہے۔ کوئی انسان اس نظام کو بدلنے پر قادر نہیں۔ یہ سادہ انداز میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ تھا جس کو بعد کے زمانے میںعلمائِ فلکیات (astronomers) نے دریافت کیا، یعنی زمین اپنے لمبے مدار (orbit) پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور (axis) پر گھومتی ہے جس سے رات کے بعد دن پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی آخری بات نہ تھیں۔ اس دریافت نے انسان کے اندر مزید جستجو کے دروازے کھولے اور بعد کو خلائی اجرام کے بارے میں نئی نئی دریافتیں ہوئیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح تیسری صدی قبل مسیح میں یونان میں مشہور اسکالر ارشمیدس (Archimedes) پیدا ہوا۔ اس کے ہم عصر بادشاہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اِس سوال کا جواب دے کہ کشتی پانی میں کیسے تیرتی ہے اور اس کا قانون کیا ہے۔ارشمیدس اِس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مشغول ہوگیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ پانی کے ٹب میں نہا رہا تھا۔ اِس دوران ایک موقع پر اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جسم پانی کے اوپر تیر رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اس نے وہ سائنس دریافت کی جس کو ہائیڈرو اسٹیٹک (hydro static) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کی جتنی مقدار کو ہٹاتی (displace) ہے، اسی کے بقدر وہاں اوپری دباؤ (upward pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اِسی فطری عمل کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ کشتی پانی میں تیرنے لگتی ہے:
Hydrostatics: upward thrust exerted on a body immersed in fluid equals weight of fluid displaced.
اِس طرح، انسان ایک کے بعد ایک دریافتیں کرتا رہا، مگر یہ تمام دریافتیں طبیعیات کے دائرے میں تھیں۔ آخر کار معلوم ہوا کہ طبیعیات (physics)کے ماورا بھی ایک دنیا ہے۔ اِس فوق الطبیعی دنیا کے بارے میں عام ذرائع سے کچھ معلوم نہیں کیا جاسکتا۔ اِس طرح ایک وقت آیا، جب کہ انسانی سائنس اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اِس آخری حدکے بعد علم کا جو اگلا مرحلہ ہے، اِس میں سائنس براہِ راست مددگار نہیں ہوسکتی۔
یہی وہ مقام ہے، جہاں سے پیغمبرانہ رہنمائی کی حد شروع ہوتی ہے۔آدمی طبیعیات کی دنیا میں بطور خود واقفیت حاصل کرسکتا ہے، لیکن بالائے طبیعیات جو دنیا ہے، اس کے بارے میں صرف پیغمبرکے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر، خدائی وحی کے ذریعے بولتا ہے، نہ کہ انسانی تجربات کے ذریعے۔ یہ پیغمبرانہ رہنمائی اب قرآن کی شکل میں موجود ہے جو محفوظ کلام الٰہی کی حیثیت رکھتا ہے۔
افکار کی تاریخ
فلسفے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان میںاس کا ابتدائی نشو ونما ہوا۔یونانی فلاسفہ عام طورپر یہ سمجھتے تھے کہ مادّہ (matter) قدیم ہے، یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) کا نظریہ یہی تھا۔ بعد کو یونان کے باہر بھی بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے، جنھوں نے فلسفے کے شعبے میں نمایاں کام انجام دیے۔ تاہم یہ تمام لوگ مادّہ (matter) کو قدیم سمجھنے میںمشترک (common)تھے۔مگر بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پہنچ کر کائنات کا یہ قدیم مادّی تصور (material concept) ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا، وہ برطانی عالمِ فلکیات سر جیمز جینز (وفات: 1946) کے الفاظ میں یہ تھا کہ —علم کا دریا میکانکل حقیقت (mechanical reality) سے نان میکانکل حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جا رہا ہے (The Mysterious Universe, p. 138) ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ مادی تعبیر کے تحت یہ نظریہ بنا کہ ہمیں خدا جیسے کسی وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ جس فکری ضرورت کے تحت خدا کے وجود کو مانا جارہا تھا، وہ خود اب مادہ (matter) کے ذریعے پوری ہورہی ہے۔ اِس کا مطلب یہ تھا کہ مادّہ نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا۔ تمام موجودات، مادّہ کے اندر اِسی طبیعی اور کیمیاوی سرگرمیوں (physical and chemical activities) کا نتیجہ ہیں۔
مگر بیسویں صدی کے رُبع اوّل میں بِگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ دریافت ہوا۔ بِگ بینگ کے نظریے نے بتایا کہ پندرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک سُپر ایٹم ظاہر ہوا۔ پھر اچانک اس میں ایک دھماکہ (explosion) ہوا۔ اِس سُپر ایٹم کے بے شمار ذرات وسیع خلا میں بکھر گئے، پھر یہ ذرات مختلف فلکیاتی اَجسام (astronomical bodies) کی صورت میں اَن گنت تعداد میں اکھٹا ہوئے، اِس طرح ہماری کائنات وجودمیں آئی۔بِگ بینگ کے نظریے نے کائنات کی قدیم مادّی تعبیر کا خاتمہ کردیا۔ اب خالص علمی اعتبار سے یہ ماننا ممکن ہوگیا کہ اِس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ وہی اس کو کنٹرول کررہا ہے اور وہی اس کو انتہائی با معنیٰ طورپر چلا رہا ہے۔
سر آئزاک نیوٹن (وفات: 1727 ) کو ماڈرن سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد سائنس میں جو نیا دور آیا، اُس میں کچھ نئی حقیقتیں دریافت ہوئیں۔ انھیں میں سے ایک حقیقت وہ ہے جس کو ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہا جاتا ہے۔ اِس طبیعی قانون نے یہ ثابت کیا کہ کائنات اپنی عمر کے لحاظ سے لا محدود (endless)نہیں ہے۔ اس کی ایک مدت ہے اور اِس مدت کے پورا ہونے پر اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔
میری مراد اُس قانون سے ہے جس کو حرکیاتِ حرارت کا دوسرا قانون (second law of thermodynamics) کہا جاتا ہے۔ اِس طبیعی قانون کو دوسرے لفظوں میں، ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہتے ہیں۔ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہوسکتی۔ ضابطۂ ناکارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل با حرارت وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اِس چکر کو الٹا نہیں چلایا جاسکتا۔ ناکارگی، دستیاب توانائی (available energy) اور غیردستیاب توانائی (unavailable energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے۔ اور اِس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِس کائنات کی ناکارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے، جب کہ تمام موجودات کی حرارت یکساں ہوجائے گی اور کوئی کارآمد توانائی باقی نہ رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبیعی عمل کا خاتمہ ہوجائے گا اور زندگی بھی اُسی کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: God Arises ، صفحہ 27)
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مگر اکیسویں صدی کے آغاز میں صورتِ حال یک سر بدل گئی۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس دانوں نے تہذیبی جنت کو وجود میں لانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اپنی تکمیل سے پہلے ختم ہوگیا۔ ثابت شدہ حالات کے مطابق، اب اس کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں۔
ہزاروں سال سے انسان کا یہ خواب تھا کہ وہ اپنے لیے اِس دنیا میں ایک بہتر زندگی بنائے۔ انسان کی اِس تمنا نے وہ چیز پیداکی جس کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر اپنی واضح صورت میں اُس وقت شروع ہوا، جب کہ انسان نے پہیہ (wheel) دریافت کیا۔ لمبے سفر کے بعد تہذیب یہاں تک پہنچی کہ صنعتی انقلاب وجود میںآگیا اور انسان، موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعے تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کرنے لگا۔
1970 میں الون ٹافلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) چھپی۔ اِس میں مصنف نے یہ اعلان کیا کہ انسانی تہذیب اب انڈسٹریل دور سے نکل کر سپر انڈسٹریل دور میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ گویا انسان کے تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کے تمام مادّی خواب پورے ہوجائیں گے اور انسان مادی راحت کے تمام سامان پالے گا، مگر جلد ہی گلوبل وارمنگ کا ظاہرہ سامنے آیا اور یہ منصوبہ تکمیل سے پہلے ہی ختم ہوگیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی تمام مادی ترقیاں جدید صنعتی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ جدید صنعتی دور ،مشینوں کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ پہلے انسان، فطرت کی پیداوار پر زندگی گزارتا تھا۔ فطرت کا کارخانہ کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر انسان کو اپنی پیداوار دے رہا تھا۔ مگر صنعتی دور میں انسانی ساخت کی مشینوں کو متحرک رکھنے کے لیے مسلسل ایندھن (fuel) کی ضرورت تھی۔ انسانی ساخت کی اِن مشینوں کے حرکت میں آنے سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ وہ کاربن ایمیشن (carbon emission) کا مسئلہ تھا۔ شروع میں یہ مسئلہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن اکیسویں صدی عیسوی کے آتے ہی یہ مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کرگیا۔
مثال کے طورپر قدیم زمانے میںانسان، فطرت کے فراہم کردہ گھوڑے اور اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ یہ گھوڑے اور اونٹ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تھے۔ گھوڑے اور اونٹ فطرت کی پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry)میں پیدا ہوتے تھے اور خود بھی کوئی پلوشن (کثافت) پیدا کیے بغیر ساری عمر اپنا کام کرتے رہتے تھے۔اِس کے مقابلے میں، موجودہ زمانے کی کار اورہوائی جہاز انسانی ساخت کے کارخانوں میں بنائے گئے ہیں۔ یہ کارخانے لازمی طورپر مہلک قسم کی فضائی کثافت پیدا کرتے ہیں۔ یہ کثافت اب بڑھتے بڑھتے اُس خطرناک نقطے تک پہنچ گئی ہے، جہاں سے اُس کے لیے واپسی ممکن نہیں۔اب انسان کے لیے اس کی تاریخ کا اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا سے گزر کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔