موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بظاہر سب کچھ موجود ہے- اُن کے یہاں بظاہر عبادت بھی ہے، دعوت وتبلیغ بھی ہے، تزکیہ کے ادارے بھی ہیں، مگر حقیقی نتیجے کے اعتبار سے، کوئی بھی چیز اُن کے یہاں دکھائی نہیں دیتی- ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری دھوم کے باوجود خداکی رحمت اُن سے اٹھ گئی ہے- اُن کا حال وہ ہورہا ہے جس کو بائبل میں، اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے — تمھاری قوت بے فائدہ صرف ہوگی، کیوں کہ تمھاری زمین سے کچھ پیدا نہ ہوگا- (احبار: 26 )
اِس کا سبب کیا ہے- اِس کا سبب یہ ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں حقیقی اسلامی اسپرٹ سے خالی ہیں- ان کے یہاں اسلام کا ظاہری فارم ہے، مگر اُن کے یہاں اسلام کی داخلی معنویت نہیں- ان کی عبادت ایک بے روح عبادت(spiritless ibadat) ہے- اُن کا تزکیہ بے دماغ تزکیہ (mindless tazkia) ہے- ان کی دعوت بے چیلنج دعوت(challengeless dawah) ہے- اُن کے یہاں اسلام کا ڈھانچہ ہے، ان کے یہاں اسلام کی حقیقی روح موجود نہیں-
موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا اِحیا اِس طرح نہیں ہوسکتا کہ ان کے اندر تاریخی فخر پیدا کیا جائے- فضائل کی کہانیاں سنا کر اُن کے درمیان فارم والی عبادت کو زندہ کردیا جائے- پس ماندہ طبقے کے لوگوں کو کلمہ پڑھوادیا جائے جس میں داعی کے لیے کوئی ذہنی چیلنج پیش نہ آتا ہو- احیاءِ ملت کی اِس قسم کی کوششیں کبھی مطلوب نتیجہ پیدا نہیں کرسکتیں-
زوال یافتہ امت کی اصلاح افراد کے اندر انقلاب لانے سے ہوتی ہے، نہ کہ بھیڑ اکھٹا کرکے اُن کے سامنے جذباتی تقریریں کرنے سے- اصلاحِ امت کا آغاز ذہنی انقلاب سے ہوتا ہے، اور ذہن افراد کے اندر ہوتا ہے، نہ کہ کسی بھیڑ (crowd) کے اندر- مزید یہ کہ اصلاح کا یہ کام عصری اسلوب کے مطابق ہونا چاہیے- روایتی قسم کی تقریر وتحریر سے آج کے انسان کا مائنڈ ایڈریس نہیں ہوتا، اِس لیے اس کے ذریعے کوئی حقیقی نتیجہ بھی پیدا ہونے والا نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔