حضرت ابو ذر غفاری کی ایک روایت کے مطابق، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر الدجال أخوف علی أمتی (مسند احمد، جلد5، صفحہ 145) یعنی میں اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ ایک اور چیز سے ڈرتا ہوں۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، وہ کیا چیز ہے جس سے آپ اپنی امت کے اوپر دجال سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ گمراہ کرنے والے لیڈر (الأئمۃ المضلین)۔
اِس حدیث میںدجال کا حوالہ بتاتا ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے رہنما دجال کے زمانے میں ظاہر ہوں گے- مزید غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اس سے مراد جدید میڈیا اور جدید کمیونکیشن کا زمانہ ہے- اِن ذرائع کی بنا پر یہ ممکن ہوجائے گا کہ زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو ایڈریس کیا جائے اور اِس طرح غلط رہنمائی (mislead) کرکے اُن کو بھٹکا دیا جائے- موجودہ زمانے میں اپوزیشن کی سیاست (politics of opposition) اِسی کی ایک مثال ہے-اِس سیاست کی سب سے زیادہ تباہ کن صورت وہ ہے جس کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کو استعمال کرنا کہا جاتا ہے، یعنی حکمرانوں کے خلاف شکایتوں کو لے کر جذباتی تحریکیں چلانا اور اِس طرح عوام کی بھیڑ اکھٹا کرکے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کردینا- سیکولر جماعتوں کی کامیابی کا راز بھی یہی منفی سیاست ہے اور نام نہاد اسلامی جماعتوں کی کامیابی کا راز بھی یہی منفی سیاست-
موجودہ زمانے کے سیاست پسندرہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ اسلامی جماعت کے نام پر ایک پارٹی بنائیں گے اور پھر حکمرانوں کی کمیوں کو تلاش کرکے وہ اُن کے خلاف دھواں دھار تحریکیں چلائیں گے- اِس کے بعد جب وہ بظاہر سیاسی کامیابی حاصل کرلیں گے تو وہ کہیں گے کہ اسلام جیت گیا، حالاں کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک اسلامی سیاست کی جیت ہوتی ہے، نہ کہ اسلام کی جیت-یہ کامیابی عوامی جذبات کے استحصال(exploitation)کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، نہ کہ حقیقتاً دین خداوندی کے احیا کی بنیاد پر-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔