Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Al-Risala March 2013
Al-Risala March 2013

کنزیومرازم کا دور

Urdu · 9 min read

تھائی لینڈ جنوب مشرقی ایشیا (South East Asia) کا ایک ملک ہے- پہلے یہ ملک سیام (Siam) کے نام سے مشہور تھا-1939 سے اس کو تھائی لینڈ (Thailand) کہا جانے لگا- یہاں کی بیش تر آبادی بدھ ازم کو مانتی ہے- قدیم زمانے میں یہ ایک زرعی ملک تھا- یہاں کی زندگی نہایت سادہ تھی- بیش تر لوگ کم آمدنی میں زندگی گزارتے تھے- اُس زمانے میں یہاں بدھ مذہب اور بدھ کلچر تیزی سے پھیلا- ملک کی تقریباً پوری آبادی بدھسٹ بن گئی-

بیسویں صدی کے آخر میں یہاں مغربی کمپنیاں آئیں- صنعت اور تجارت کو فروغ ہونے لگا، یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر یہ حال ہوا کہ تھائی لینڈ میں ترقی کا ایک نیا دور آگیا- جو لوگ پہلے غریب سمجھے جاتے تھے، اب وہ امیر بن گئے- لوگوں کی قوتِ خرید (purchasing power) بہت بڑھ گئی- جدید طرز کے شاپنگ سنٹر ہر جگہ کھل گئے- اشیاءِ صرف (consumer goods) کی مانگ بہت بڑھ گئی-اِس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہوا کہ تھائی لینڈ کا کلچر بالکل بدل گیا- پہلے بودھ مندروں میں بھیڑ ہوا کرتی تھی، اب بازاروں میں بھیڑ دکھائی دینے لگی- روایتی طریقے کے مطابق، پہلے یہ تھا کہ بدھسٹ منک (Buddhist Monk) لوگوں کے گھروں سے کھانا مانگ کر لاتے تھے- اب وہ اپنے آفس سے ریستوراں کو ٹیلی فون کرتے ہیں اور کھانا ان کے آفس میں آجاتاہے- ایک بدھسٹ نے کہا کہ — اب تھائی لینڈ کا مذہب بدھ ازم نہیں ہے، بلکہ کنزیومرازم ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Consumerism is now the Thai religion.

یہ صورت حال صرف تھائی لینڈ کی نہیں ہے، بلکہ آج ساری دنیا کا سب سے بڑا مذہب وہی بن چکا ہے جس کو کنزیومرازم کہاجاتا ہے، حتی کہ عملاً اُن لوگوں کا بھی جو بظاہر روایتی قسم کے مذہبی لباس میں دکھائی دیتے ہیں- اصل یہ ہے کہ انیسویں صدی میں ساری دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا، جب کہ اشیاءِصَرف کے بار\ے میں ایک نیا تصور دنیا میں آگیا- یہ کلچر اب اتنا بڑھ چکاہے کہ اس کو کنزیومر انقلاب (consumer revolution) کہاجاتاہے- اب خواہ سیکولر لوگ ہوں یا بظاہر مذہبی لوگ، تقریباً ہر ایک کا ایک ہی کنسرن (concern)ہے— زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اور بازار سے زیادہ سے زیادہ اشیاءِ صرف (consumer)حاصل کرنا-

Thailand Grows Richer, Forgets its Monks

BAAN PA CHI, Thailand — The monks of this northern Thai village no longer perform one of the defining rituals of Buddhism, the early-morning walk through the community to collect food. Instead, the temple’s Abbot dials a local restaurant and has takeout delivered. “Most of the time, I stay inside,” said the Abbot, Phra Nipan Marawichayo, who is one of only two monks living in what was once a thriving temple. “Values have changed with time.” The gilded roofs of Buddhist temples are as much a part of Thailand’s landscape as rice paddies and palm trees. The temples were once the heart of village life, serving as meeting places, guesthouses and community centers. But many have become little more than ornaments of the past, marginalized by a shortage of monks and an increasingly secular society. “Consumerism is now the Thai religion,” said Phra Paisan Visalo, one of the country’s most respected monks. “In the past, people went to temple on every holy day. Now, they go to shopping malls.” There are five monks and novices for every 1,000 people today, compared with 11 in 1980, when governments began keeping nationwide records. Although it is still relatively rare for temples to close, many districts are so short on monks that abbots here in northern Thailand recruit across the border from impoverished Myanmar, where monasteries are overflowing with novices. Many societies have witnessed a gradual shift from the sacred toward the profane as they have modernized. What is striking in Thailand is the compressed time frame, a vertiginous pace of change brought on by the country’s rapid economic rise. In a relatively short time, the local Buddhist monk has gone from being a moral authority, teacher and community leader fulfilling important spiritual and secular roles to someone whose job is often limited to presiding over periodic ceremonies. Scandals surrounding some monks have contributed to the decline. Social media has helped spread videos of monks partying in monasteries, imbibing alcohol, watching pornographic videos and cavorting with women and men, all forbidden activities.

unverifiedAttribution could not be verified automatically

(The Times of India, New Delhi, December 23, 2012, p. 21)

راقم الحروف نے 1961 کا ایک واقعہ ہندستان ٹائمس کے حوالے سے اپنے ایک مضمون مطبوعہ ماہ نامہ زندگی (رام پور) میں اِس طرح نقل کیا تھا: ’’نئی دہلی میں ہندستان کے بین اقوامی صنعتی میلہ میں امریکا کی طرف سے ایک ہوائی موٹر کار کی نمائش کی گئی ہے، جس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ زمین پر بھی چلتی ہے اور زمین سے چند فٹ بلند ہو کر 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوا میں بھی اڑ سکتی ہے- اِس کار کو جب ایک نوجوان سادھو نے دیکھا تو اس کے سامنے ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا- کیا میں تیاگ کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیات کی دنیا میں اپنے حوصلوں کی تسکین ڈھونڈوں- گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ ہندستانی نوجوان 20 منٹ تک اِس امریکی کار کو دیکھتا رہا جس کو مستقبل کی کار (Car of the future)کا نام دیاگیا ہے- جب اس کے بارے میں سادھو کا تبصرہ پوچھا گیا تو اس نے گہرے تاثر کے ساتھ جواب دیا کہ اِس نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ دونوں دنیاؤں میں سے وہ کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لیے زیادہ بہتر سمجھوں- )قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 49 )

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ضرورت کی چیزیں بہت کم تھیں اور جو چیزیں تھیں، وہ بھی نہایت سادہ ہوتی تھیں- قدیم زمانے میں پرکشش سامانوں کا کوئی وجود نہ تھا- یہ ایک نیا ظاہرہ ہے جو جدید صنعت کے بعد دنیا میں پیداہوا اور انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران بہت زیادہ عام ہوگیا-

اب ساری دنیا کا یہ حال ہے کہ کوئی شخص سیکولر ہو یا مذہبی، دونوں ہی کا طرز فکر صرف ایک ہے اور دونوں کا معبد بھی صرف ایک ہے، اور وہ ہے شاپنگ سنٹر- اب آخرت کی جنت صرف ایک روایتی عقیدہ بن کررہ گئی ہے- عملا ً ہر ایک کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی جنت اسی دنیا میں بنانا چاہتاہے- ہر آدمی زبانِ قال یا زبانِ حال سے کہہ رہا ہے کہ — جنت آج کی دنیا میں شاپنگ سنٹر کا ایک آئٹم بن چکی ہے- ایسی حالت میں جنت کے حصول کے لیے کل آنے والی دنیا کا انتظار کرنے کی کیا ضرورت-

ایک حدیث اِس موضوع سے بہت زیادہ متعلق ہے- یہ حدیث صحیح مسلم میں مختصراً آئی ہے- امام ذہبی نے اس کو اپنی کتاب العلو للعلی الغفار فی صحیح الأخبار (رقم الحدیث: 98) میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے- علامہ ناصر الدین الالبانی نے اِس حدیث کو تفصیلی متن کے ساتھ تخریج مشکاة المصابیح (رقم الحدیث : 741 ) میں لکھا ہے- انھوںنے اِس روایت کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں: لہ شاہد، إسنادہ حسن (اس کے حق میں شواہد موجود ہیں اور سند کے اعتبار سے یہ روایت حسن کا درجہ رکھتی ہے) -اِس روایت کے الفاظ یہ ہیں:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أن حبرا من الیہود سأل النبی - صلى اللہ علیہ وسلم - : أی البقاع خیر ؟ فسکت عنہ ، وقال : أسکت ، حتى یجیء جبریل ، فسکت ، ثم جاء جبریل ، فسألہ ، فقال : ما المسؤول عنہا بأعلم من السائل ، ولکن أسأل ربی - تبارک وتعالى - ؛ ثم قال جبریل : یا محمد ! إنی دنوت من اللہ دنوا ما دنوت مثلہ قط ؛ قال : کیف کان یا جبریل ؟ ، قال : کان بینی وبینہ سبعون ألف حجاب من نور ، فقال : شر البقاع أسواقہا ، وخیر البقاع مساجدہا-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ترجمہ: ایک یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ زمین کا سب سے بہتر مقام کون سا ہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے-آپ نے کہا کہ ٹھہرو، یہاں تک کہ جبریل آجائیں- پھر وہ شخص خاموش ہوگیا- اس کے بعد جبریل آپ کے پاس آئے تو آپ نے اُن سے پوچھا- جبریل نے کہا کہ اِس سوال کے بارے میں سائل، مسئول سے زیادہ نہیں جانتا- تاہم میں اپنے رب سے پوچھوں گا- پھر جبریل نےکہا کہ اے محمد، میں اللہ سے اتنا زیادہ قریب ہوا جتنا کہ اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا- آپ نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا اے جبریل- جبریل نے کہا کہ میرے اور خدا کے درمیان ستر ہزار نورانی پردے تھے- اُس وقت اللہ نے جواب دیا کہ — زمین کا سب سے برا مقام بازار ہیں اور سب سے اچھا مقام مسجدیں ہیں-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ حدیث آج کے حالات میں زیادہ قابلِ فہم ہوگئی ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے کے اسواق (شاپنگ سنٹر) زمین کا سب سے زیادہ برا مقام (evil spot) بن گئے ہیں- اِن شاپنگ سنٹروں نے انسان کی سوچ کو بالکل بدل دیا ہے- اب انسان کی سوچ کا مرکز نہ خدا ہے اور نہ جنت اور نہ اونچے اقدار (high values) - اب ہر عورت اور مرد دیوانگی کی حد تک ایک ہی چیز کا طالب بن گیا ہے اور وہ ہے دور جدید کے پُررونق شاپنگ سنٹروں میںجانا اور وہاں شاپنگ کرنا-

اللہ کے فضل سے مجھے شاپنگ کاکوئی شوق نہیں- مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میں یوپی کے ایک گاؤں میں رہتا تھا- ہمارے گاؤں سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر ہر سال دسہرہ بازارلگتاتھا-گاؤں کے بچے وہاں جاتے تھے اور مجھ کو بھی اپنے ساتھ لے جاتے تھے- دوسرے بچوں کا حال یہ تھا کہ دسہرہ بازار میں وہ نہایت شوق کے ساتھ خریداری کرتے تھے اور خالی جیب کے ساتھ گھر واپس آتے تھے- اِس کے برعکس، میرا حال یہ تھا کہ جاتے ہوئے میری ماں میری جیب میں کچھ پیسے ڈال دیتی تھیں، مگر میں دسہرہ بازار میں کوئی خریداری نہیں کرتا تھا اور واپس آکر پورا پیسہ اپنی ماں کو لوٹا دیتا تھا-

کانفرنسوں میں شرکت کے سلسلے میں مجھے مختلف ملکوں میں سفر کرنے کا موقع ملا- میں یہ دیکھتا تھا کہ کانفرنس کے شرکا کانفرنس کی کارروائی ختم ہونے کے بعد مقامی بازار میں جاتے تھے اور اپنے متعلقین کے لیے باقاعدہ خریداری (shopping)کرتے تھے- لیکن میں کبھی کسی ملک کے بازار میں خریداری کے لیے نہیں گیا-1998 کا واقعہ ہے- میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکا گیا- وہاں میرے کچھ ساتھی — خواجہ کلیم الدین، فاروق چشتی ، وغیرہ اپنے ساتھ مجھ کو بازار لے گئے- وہاں اپنے لیے ان کو اوورکوٹ (over coat) خریدنا تھا- ہر ایک نے اپنی پسند کے مطابق، اوور کوٹ خریدا اور پھر مجھ سے کہا کہ آپ بھی کوئی کوٹ پسند کیجئے، ہم اس کو خرید کر آپ کو بطور تحفہ دیں گے- مگر میں کوٹ کے شو روم سے الگ کھڑا ہو کر اپنے خیالات میں گم رہا- میں نے کوٹ کی طرف دیکھا بھی نہیں- میری اِس بے رغبتی کو دیکھ کر میرے ایک ساتھی نے کہا کہ— آج میں نے یہ جانا کہ دنیا کتنی زیادہ حقیر ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content