← Al-Risala March 2013Al-Risala March 2013
امتِ مسلمہ کی تاریخ
Urdu · 5 min read
قرآن کی سورہ آل عمران میں یہ آیت آئی ہے: اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗ ۭ وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ ۚ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَاۗءَ ۭ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(3: 140) یعنی اگر تم کو کوئی زخم پہنچے تو تمھارے حریف کو بھی ویسا ہی زخم پہنچا ہے، اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں، تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور وہ تم میں سے کچھ لوگوں کو گواہ بنائے، اور اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت میں خدائی منصوبے کے ایک خاص پہلو کا بیان ہے۔ وہ یہ کہ جب ایک گروہ کو اقتدار ملتاہے اور پھر جب اقتدار اُس سے چھن کر کسی دوسرے گروہ کے پاس چلا جاتا ہے تو یہ اتفاقاً نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے کو خدائی منصوبے کی روشنی میں سمجھے۔
سیاسی اقتدار کے معاملے میں اکرام یا اہانت(89: 15-16) کی نفسیات میں مبتلا ہونا درست نہیں۔ قرآن کی مذکورہ بالاآیت میں ظالم کا لفظ معروف ظالم کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ایسے لوگوں کے بارے میں جو اِس معاملے میں اللہ کے منصوبے کو نہ سمجھیں ا ور اس کو ذاتی اہانت کے معنی میں لے کر منفی رد عمل میں مبتلا ہوجائیں۔
امت مسلمہ کی تاریخ اِس اعتبار سے تین ادوار میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں امتِ مسلمہ کے ذریعے عرب کا اقتدار بدلا، پھر ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہوا۔ یہ واقعہ اِس لیے پیش آیا کہ امتِ مسلمہ تاریخ میں ایک انقلابی رول ادا کرسکے۔ وہ رول تھا — تاریخ کو توہماتی دور سے نکال کر سائنسی دور میں داخل کرنا۔
اِس کے بعد آٹھویں صدی عیسوی میں یہ ہوا کہ ایشیا اور افریقہ میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہوگیا۔ اِس دوران امت سے جو رول مطلوب تھا، وہ ایک پولٹکل رول تھا، اور وہ تھا خداکے آخری دین کا ایک محفوظ دین کی حیثیت سے قائم ہوجانا۔قدیم زمانے میں حفاظتِ دین کے اِس واقعے کے لیے ایک سیاسی دبدبہ درکار تھا۔ مسلم ایمپائر کے زمانے میں یہی واقعہ انجام پایا۔
انیسویں صدی کے آخر میں مسلمانوں کا سیاسی دبدبہ تقریباً ختم ہوگیا۔ یہ کوئی منفی واقعہ نہ تھا اور نہ وہ کسی ’’دشمن‘‘ کی مفروضہ سازش کے تحت پیش آیا۔ یہ واقعہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے منصوبے کے تحت ظاہر ہوا۔ اِس تبدیلی میں یہ اشارہ تھا کہ انقلابی رول اور پولٹکل رول کے بعد اب امتِ مسلمہ سے جو رول مطلوب ہے، وہ ایک دعوتی رول ہے۔ اب امتِ مسلمہ کو یہ کرنا ہے کہ وہ شکایت اوراحتجاج اور تصادم میں اپنا وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ خدا کے دعوتی منصوبے کو انجام دینے کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے۔
سورہ الفرقان میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْراً (25: 1)- اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ سارے عالم کے لیے نذیر (warner) بنے، یعنی پورے کرۂ ارض کے تمام انسانوںکو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کردینے والا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
واقعات بتاتے ہیں کہ نزول قرآن کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک یہ مقصد اپنی تکمیلی صورت میں پورا نہیں ہوا، کیوں کہ سارے عالم کو آگاہ کرنے کے لیے عالمی کمیونکیشن درکار تھا۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کا کمیونکیشن وجود میں نہیں آیا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار اِس قسم کا عالمی کمیونکیشن (global communication) وجود میں آیا۔ اِس طرح یہ ممکن ہوگیا ہے کہ قرآن کے بارے میں وہ عالمی نشانہ پورا ہو جس کو حدیث میں پیشگی خبر کے طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا یبقیٰ علی ظَہْرِ الأرض بیت مدر ولا وبر إلا أدخلہ اللہ کلمۃ الإسلام (مسند احمد:6/4) یعنی زمین کی سطح پر کوئی ایسا گھر باقی نہیں رہے گا جس میں اسلام کا کلمہ داخل نہ ہو جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے کو کمیونکیشن کازمانہ (age of communication) کہاجاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو مواصلاتی ذرائع وجود میں آئے ہیں، انھوں نے پہلی بار اِس کو ممکن بنا دیا ہے کہ اللہ کا کلام سارے عالم میں تمام مردوں اور عورتوں تک پہنچا دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو مواصلاتی ذرائع وجود میں آئے ہیں، وہ اصلاً اِس لیے ہیں کہ اہلِ ایمان اِن ذرائع کو اختیار کرتے ہوئے عالمی ادخالِ کلمہ کا کام انجام دیں۔
اب ہم اکیسویں صدی میں پہنچ چکے ہیں۔ آج دنیا کاتقریباً ہر گوشہ انسان کے علم میں آچکا ہے۔ آج یہ ممکن ہوگیا ہے کہ حقیقی معنوں میں عالمی سطح کی دعوتی منصوبہ بندی کی جائے۔ آمد ورفت کے ذرائع، گلوبل موبیلٹی (global mobility) اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے یہ عین ممکن ہوگیا ہے کہ آج ایک الیکٹرانک دعوہ ایمپا ئر قائم کیا جائے، اور پُرامن منصوبے کے تحت تمام انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچادیا جائے۔
آج پوری دنیا میں بسنے والے انسانوں کی تعداد سات بلین سے زیادہ ہے۔ اِس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اکیسویں صدی کے اہلِ ایمان کے لیے سات بلین کام ہیں۔ یہ کام اتنا بڑا ہے کہ اگر اس کا صحیح ادراک ہوجائے تو اہلِ ایمان کو یہ محسوس ہوگا کہ اُن کے پاس دوسرے کاموں کے لیے کوئی وقت ہی نہیں ۔ وہ دعوت الى اللہ کے اِس عظیم کام میں مصروف ہوجائیں گے، یہاں تک کہ وہ اپنی ساری توانائی عالمی دعوت کے مشن میں لگادیں گے۔ وہ دعوت الی اللہ کے اِس عظیم کام میں مصروف ہوجائیں گے، یہاں تک کہ وہ اپنے رب سے جاملیں۔