زوال کے زمانے میں یہود ونصاری کے درمیان جو نئی چیزیں پیداہوئیں، اُن میں سے ایک چیز وہ تھی جس کو مذہبی میک اپ (religious makeup) کہاجاسکتاہے- زوال کے زمانے میں اُن کے شیوخ اور علما نے اپنے لیے خصوصی لباس تیار کرائے، تاکہ وہ دوسروں سے ممتاز نظر آئیں-
زوال کے زمانے میں یہ شیوخ اور علما داخلی اسپرٹ کے اعتبار سے خالی ہوچکے تھے، چناں چہ اب وہ خصوصی لباس کے ذریعے عوام کے سامنے آنے لگے- یہ گویا ظاہری اضافے کے ذریعے داخلی کمی کی تلافی کرنا تھا-
مذہبی میک اپ کا یہ معاملہ معروف معنوں میں، صرف قدیم یہود ونصاری کے ساتھ خاص نہیں- امتِ مسلمہ کے دورِ زوال میں امت کے مذہبی لوگوں کا حال بھی یہی ہوتاہے- وہ مذہبی لباس کے معاملے میں بھی یہود ونصاری کی مضاہاة (9:31) کرنے لگتے ہیں- وہ جب عوامی مجلس میں آتے ہیں تو وہ مذہبی میک اپ کے ذریعے اپنا ایسا بھیس بناتے ہیں کہ اندر سے کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی باہر سے وہ لوگوں کو بہت زیادہ دکھائی دیں-
اصل یہ ہے کہ کسی امت پر جب زوال آتا ہے تو وہ اُس وقت آتاہے جب کہ امت اپنی تعداد کے اعتبار سے اتنی بڑی ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ دنیوی اعتبار سے ایک پوری مارکیٹ بن جاتی ہے- اُس وقت یہ ممکن ہوجاتاہے کہ اگر امت کے شیوخ اور علما لوگوں کے سامنے مذہبی بھیس میںآئیں تو ان کو بہت بڑے بڑے دنیوی فائدے ہوسکتے ہیں- اُس وقت امت میں وہ چیز ظاہر ہوتی ہے جس کو مذہبی پروفیشنل ازم (religious professionalism) کہا جاسکتاہے- زوال کے اِس دور میں علما اور شیوخ کے درمیان ایک ایسا مذہبی کلچر وجود میں آتاہے جس کے ذریعے ہر قسم کے مادّی فائدے حاصل کیے جاسکیں- یہی وہ وقت ہوتاہے جب کہ اُن کے درمیان وہ چیز ظہور میں آتی ہے جس کو ہم نے ’’مذہبی میک اپ‘‘ (religious makeup)کہا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔