حضرت مسیح دوہزار سال پہلے فلسطین میں آئے- اُس وقت فلسطین میں زیادہ تر یہود رہتے تھے- اُس زمانے میں یہود اپنے زوال کے آخری دور میں پہنچ چکے تھے- حضرت مسیح نے یہودی علما پر سخت تنقیدیں کیں- انھیں میں سے ایک تنقید یہ تھی — میرا گھر دعا کا گھر کہلائے گا، مگر تم اس کوچوروں کا بھٹ بناتے ہو:
My house shall be called a house of prayer, but you have made it a 'den of thieves'. (Matthew 21:13)
یہ معاملہ سادہ طورپر یہود کا معاملہ نہیں ہے، یہ معاملہ دراصل زوال یافتہ امت کا معاملہ ہے- ہر امت اپنے آخری دور میں زوال کی اِسی حالت تک پہنچتی ہے- اس کے عبادت خانوں میں بظاہر بھیڑ ہوتی ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا حال وہی ہوجاتا ہے جو اپنے دور زوال میں یہودی عبادت خانوں کا ہوا تھا-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مساجد کے بارے میں فرمایا کہ: المساجد بیوت المتقین (المعجم الأوسط للطبرانی، رقم الحدیث: 7149) یعنی مسجدیں متقی انسانوں کاگھر ہیں- یہ حال مساجد کا اُس وقت ہوتاہے جب کہ امت اپنے دورِ عروج میں ہو- اِس کے برعکس، جب اگلی نسلوں میں بگاڑ آجائے اور امت اپنے دور زوال میں پہنچ جائے، اُس وقت اس کے عبادت خانوں کا جو حال ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس کی مسجدیں گویا بیوت المفسدین (مفسدین کا گھر) بن جاتی ہیں، یعنی تقوی کی تربیت گاہ کے بجائے عملاً وہ فساد (قومی مذہب اور قومی سیاست) کی تربیت گاہ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں- عبادت خانوں کا یہ حال اُس وقت ہوتا ہے جب کہ مذہب، خدائی مذہب کی حیثیت سے زندہ نہیں رہتا، بلکہ وہ قومی مذہب کی شکل اختیار کرلیتا ہے- یہی وہ وقت ہے جب کہ قوم کے بگڑے ہوئے رہنما مسجدوں کو اپنا مرکز بنالیتے ہیں اور پھر وہ عبادت خانوں میں وہی مفسدانہ عمل کرتے ہیں جس کی تصویر حضرت مسیح کے مذکورہ قول میں نظر آتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔