قرآن کی سورہ نمبر 12 میں حضرت یوسف کا قصہ بیان ہوا ہے- اِس قصے سے دو اخلاقی معیار معلوم ہوتے ہیں، ایک یہ کہ آدمی کا شعور اتنا زندہ ہو کہ وہ ہر صورتِ حال میں غلط موقف کو دریافت کرلے اور اس سے اپنے آپ کو بچائے-
دوسرا اخلاقی درجہ یہ ہے کہ آدمی ابتدائی مرحلے میں غلط موقف اختیار کرے، لیکن اس کے بعد جب امرِ حق اُس پر واضح ہو تو وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اپنی اصلاح کرلے-
پہلے موقف کی مثال سورہ یوسف کی آیت نمبر 24 میں پائی جاتی ہے- اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت یوسف کے سامنے ایک امتحانی صورتِ حال پیش آئی، لیکن حضرت یوسف کی اِس صلاحیت نے اُن کی مدد کی اور وہ پیش آمدہ امتحان میں پورے اترے-
دوسری مثال سورہ یوسف کی آیت نمبر 51 میں پائی جاتی ہے- اِس آیت سے معلوم ہوتاہے امراةِ عزیز پہلے مرحلے میں نفس سے مغلوبیت کا شکار ہوگئی اور حضرت یوسف پر غلط الزام (12:25) عائد کردیا- لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ حضرت یوسف مکمل طورپر بے قصور ہیں- اِس وضاحت کے بعد امراةِعزیز نے جو کچھ کہا، اس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّہٗ عَنْ نَّفْسِہٖ وَاِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ (12:51) یعنی عزیز کی بیوی نے کہا اب حق کھل گیا۔ میں نے ہی یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور بلاشبہ وہ سچا ہے۔
اِس دنیا میں آدمی کے لیے دو صورتیں ہیں — ایک، یہ کہ آدمی اپنےاندر وہ اعلی ربانی سوچ پیدا کرے جو ہر موقع پر اس کو صحیح رہنمائی دیتی رہے- دوسرا اخلاقی درجہ یہ ہے کہ آدمی کے اندر اعتراف کا مادہ ہو- معاملے کی وضاحت کے بعد وہ کھلے طورپر اپنی غلطی کو مان کر اپنی اصلاح کرلے- انسان کے لیے یہی دو اخلاقی درجے ہیں- اِس کے بعد کوئی تیسرا اخلاقی درجہ انسان کے لیے نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔