موجودہ زمانے کے مسلم نوجوانوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ ذہنی اعتبار سے ایک غیریقینی صورتِ حال میں مبتلا ہیں- روایتی اسلام جو بطور ورثہ اُنھیں ملا ہے، وہ ان کے ذہن کو مطمئن نہیں کرتا - اسلام کا کوئی دوسرا تصور جو اُن کو مطمئن کرنے والا ہو، وہ اُن کو معلوم نہیں- مسلم نوجوانوں کی یہ غیریقینی صورتِ حال ہرجگہ پائی جاتی ہے، عرب میں بھی اور غیر عرب میں بھی، مشرق میں بھی اور مغرب میں بھی-
نوجوان طبقہ ہمیشہ کسی قوم کا اصل اثاثہ ہوتاہے- مسلم نوجوان بلا شبہہ مسلم امت کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں- ضرورت ہے کہ اُن کو بے یقینی سے نکالا جائے اور اُن کو یقین کی حالت تک پہنچایا جائے-
اِس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ اِن نوجوانوں کو وہ روایتی انداز اپیل نہیں کرسکتا جس میں سارا زور یہ ’کرو اور وہ نہ کرو‘ (do’s and don’ts) پر ہوتا ہے- صحیح یہ ہے کہ اُن کے سامنے اسلام کی تعلیمات کو اُس اسلوب میں بیان کیا جائے جو اُن کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، جس میں اسلام کو عقلی انداز (rational way) میں پیش کیاگیا ہو- موجودہ حالت میں یہ نوجوان صرف اسلام کے روایتی ڈھانچے کو جانـتے ہیں، یعنی وہ اسلام جس میں سارا زور صرف ظاہری شناخت اور فارم پر ہوتا ہے- اِس قسم کا اسلام موجودہ زمانے کے نوجوانوں کی اصلاح کے لیے موثر نہیں ہوسکتا-
موجودہ زمانے کے مسلم نوجوانوں کی اصلاح کے لیے ضرورت ہے کہ اسلام کو اُن کے سامنے مبنی برعقل اسلوب (reason-based idiom) میں پیش کیا جائے- موجودہ حالت میں پہلا کام یہ ہے کہ اسلام کا شعور اُن کے اندر اس طرح پیدا کیا جائے کہ وہ اسلام کو ازسرِ نو دریافت کرسکیں-
اسلام کی دوبارہ فکری دریافت ہی موجودہ زمانے کےمسلم نوجوانوں کو یقین عطا کرسکتی ہے- اگر ایسا ہو تو اسلام اُن کے لیے ایک عظیم مشن بن جائے گا، اسلام اُن کے لیے ایک ایسا مشن بن جائے گا جو لامحدود طورپر جاری رہنے والا ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.