ایک عوامی مثل ہے — عقل بڑی کہ بھینس۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ گاؤں میں رہنے والا ایک جاہل آدمی جب بھینس کو دیکھتا ہے تو وہ اس کو ایک بھاری بھرکم چیز نظر آتی ہے۔ وہ بھینس کو بڑی چیز سمجھ لیتا ہے۔ عقل (wisdom) کی اہمیت اس کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ ظاہری علم کی بنا پر یہ سمجھ لیتا ہے کہ بھینس ایک بڑی چیز ہے۔ اِس کے مقابلے میں عقل محض ایک چھوٹی چیز۔
یہ محض گاؤں کے ایک جاہل آدمی کی بات نہیں، یہی شہروں میں رہنے والے تعلیم یافتہ لوگوں کی بات بھی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سیاسی اقتدار کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی بلڈنگوں میں قائم ہونے والے ادارے کو بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ جس اجتماع میں عوام کی بھیڑ اکھٹا ہو جائے، اس کو وہ بڑا اجتماع سمجھتے ہیں۔ جس آدمی کے پاس شان دار مکان ہو اور اس کے گیٹ کے باہر کاریں کھڑی ہوئی ہوں، وہ اس کو بڑا آدمی سمجھ لیتے ہیں۔ جواخبار میں چھپے اور ٹی وی میں نظر آئے، اس کو وہ بڑی شخصیات (celebrities) میں شمار کرنے لگتے ہیں۔ جو آدمی اسٹیج پر پُرجوش خطابت کرے اور جس کو سن کر سامعین تالیاں بجائیں، اس کو لوگ بڑا مقرر سمجھ لیتے ہیں۔ جو آدمی سڑک پر چلے تو اس کے پیچھے گاڑیوں کا کارواں(motorcade) چل رہا ہو، اس کو وہ معزز انسان سمجھ لیتے ہیں، وغیرہ۔
یہ ایک عمومی کمزوری ہے۔ یہی کمزوری کسی بڑے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی بڑا کام ہمیشہ چھوٹے آغاز (humble beginning) سے شروع ہوتا ہے۔ جو لوگ چھوٹے آغاز کی اہمیت کو نہ جانیں، ان کے درمیان کوئی بڑا کام نہیں کیا جاسکتا۔
بڑے کام کے لیے ہمیشہ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جب چھوٹے آغاز کے لیے لوگ اپنا تعاون (co-operation) نہ دیں تو اُن کے درمیان بڑے کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا۔ اِس قسم کا مزاج کسی بڑے کام کے لیے ایک مستقل رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔