Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala March 2011
Al-Risala March 2011

سوال وجواب

Urdu · 5 min read

اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے۔ لیکن روایات میںآتا ہے کہ بعد کے زمانے میں امت کے اندر وہی بگاڑ پیدا ہوجائے گا جو پچھلے اہلِ کتاب (یہود ونصاریٰ) کے اندر پیدا ہوا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے تو پھر ایسا کس طرح ممکن ہے کہ امت کے اندر وہی بگاڑ پیداہوجائے جو سابق اہلِ کتاب کے اندر پیداہوا تھا (حافظ ابو الحکم محمد دانیال، پٹنہ، بہار)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے (15: 9) ، لیکن اِس حفاظت کا تعلق دینِ اسلام کی حفاظت سے ہے، نہ کہ مسلم قوم کی حفاظت سے (5: 3) ۔ دینِ اسلام کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ دین کا متن (text) پوری طرح محفوظ رہے گا، تاکہ ہر زمانے میں ہدایت کا طالب اُس سے ہدایت پاسکے۔ لیکن جہاں تک مسلم قوم کا تعلق ہے، وہ اُسی طرح حالتِ امتحان میں ہے جس طرح دوسری قومیں حالتِ امتحان میں ہیں۔ اِس سلسلے میں جتنی بھی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ سب صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ دین کا معاملہ اور قوم کا معاملہ ایک دوسرے سے بالکل الگ ہے۔ ختمِ نبوت کا تقاضا ہے کہ دین کا متن قیامت تک محفوظ رہے۔ مگر جہاں تک مسلم قوم کا معاملہ ہے، اُس کے لیے عروج وزوال (rise & fall) کا وہی عام قانون ہے جو دوسری اہلِ کتاب امتوں کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ اِس معاملے میں کسی قوم کا کوئی استثنا (exception) نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کچھ لوگوں نے غلط طورپر یہ نظریہ بنایا ہے کہ جس طرح دین ایک محفوظ دین ہے، اُسی طرح مسلم امت بھی ایک محفوظ امت ہے۔ مگر یہ ایک خود ساختہ نظریہ ہے، اِس کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں موجود نہیں۔ مثال کے طورپر امت کی محفوظیت کا نظریہ اِس روایت سے نکالا جاتا ہے کہ: إنَّ أمتی لاتجتمع علی الضلالۃ ( ذخیرۃ الحفاظ للقیسرانی، 1/364 ) مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ امت کی اکثریت ضلالت سے محفوظ رہے گی۔ یہ حدیث افراد کی نسبت سے ہے، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے، یعنی امت کے عام بگاڑ کے زمانے میں بھی کچھ ایسے افراد ہوں گے جوعمومی بگاڑ کے زمانے میں بھی ہدایت پر قائم رہیں گے۔ اِسی لیے ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: أن تستجمعوا کلُّکم علی الضلالۃ(مسند إسحاق بن راہوَیہ، رقم الحدیث: 363 ) یعنی بعد کے زمانے میں جب امت میں عام بگاڑ آجائے گا تو اُس وقت بھی کچھ افراد اِس عمومی بگاڑ سے محفوظ رہیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عرض ہے کہ ہندستان کے مخصوص حالات میں مسلمانوں کو ان کی سیاسی زندگی میں قرآن اور حدیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے براہِ کرم، واضح فرمائیں۔(محمد یحییٰ ارسلانی قاسمی، پالم کالونی، نئی دہلی)

اس معاملے میں قرآن اور حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ہندستان کے مسلمان بلکہ ساری دنیا کے مسلمان سیاست کو مکمل طورپر چھوڑ دیں اور وہ صرف غیر سیاسی دائرے میں کام کریں۔ مثلاً تعلیم، دعوت، تجارت اور تعمیر، وغیرہ۔ کام کا تعین ہمیشہ حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی مفروضہ معیار کے اعتبار سے۔ حالات کا لحاظ کئے بغیر کسی مفروضہ معیار کو لے کر جو کام شروع کیا جائے، وہ صرف بے نتیجہ ٹکراؤ پیدا کرے گا، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ اپنے سیاسی ذہن کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں۔ چوں کہ حالات موافق نہیں ہیں، اِس لیے اِن سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں اُن کو جو چیز ملی ہے، وہ صرف یہ ہے — شکایت، احتجاج، نفرت، منفی سوچ اور تشدد، وغیرہ۔ اِس طرح کی تمام چیزیں صرف یک طرفہ طورپر مسلمانوں کے نقصان کا باعث ہیں، وہ اُن کو کوئی مثبت نتیجہ دینے والی نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قدیم مکہ میں سیاسی اقتدار کی پیش کش کی گئی۔ مکہ کے معاصر سرداروں نے آپ سے کہا: إن ترید مُلکاً، ملّکناک علینا (اگر آپ اقتدار چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اقتدار دینے کے لیے تیار ہیں) آپ نے اِس سیاسی پیش کش کو قبول نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا: ما أطلب الملک علیکم ( السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، 1/296 ) یعنی میں تمھارے اوپر اقتدار کا طالب نہیں: I seek not sovereignty over you.

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس وقت کے مکی حالات کے اعتبار سے یہ فیصلہ کیا۔ آج کل کی زبان میں کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ آپ نے سیاسی عمل (political activism) کے بجائے دعوتی عمل (dawah activism) کا طریقہ اختیار فرمایا۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ — آپ نے نتیجے کو سامنے رکھ کر اپنا منصوبہ بنایا، نہ کہ مفروضہ معیار کو سامنے رکھ کر۔

اِس معاملے میں دوسری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے۔ اگر مسلمانوں کا یہ خیال ہو کہ اُن کے لیے موجودہ حالات میں سیاست میں حصہ لینا ضروری ہے، کیوں کہ یہ جمہوری دور ہے اور جمہوری دور میں اگر کوئی گروہ ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ ہو تو وہ پولٹکل ایلینیشن (political alienation) میں مبتلا ہوجائے گا، یعنی ایسا گروہ سیاسی اعتبار سے الگ تھلگ ہو کر رہ جائے گا۔ اِس دوسری حالت میں اُن کے لیے سنتِ یوسفی کا نمونہ موجود ہے۔ سنتِ یوسفی جیل میں جانے کا نام نہیں ہے، بلکہ سنتِ یوسفی دراصل سیاسی مصالحت (political adjustment) کا نام ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے زمانے میں مصر کا بادشاہ مشرک تھا۔ وہ شراب پیتا تھا۔ ملک میں اِسی مشرک بادشاہ کا قانون نافذ تھا۔ اِس کے باوجود حضرت یوسف نے مصالحت کا انداز اختیار کرتے ہوئے بادشاہ کے سیاسی نظام میں شرکت قبول کرلی۔ سیاست کا یہ طریقہ موجودہ زمانے میں ہر مسلمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں اُن کے لیے واضح سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اصل یہ ہے کہ وہ اپنے فخر پسندانہ مزاج کی بنا پر سیاسی سرکشی کو سیاست سمجھتے ہیں، اور چوں کہ کسی ملک میں ان کے لیے سیاسی سرکشی کے مواقع حاصل نہیں، اِس لیے وہ شعوری یا غیرشعوری طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور سنت میں ان کے لیے سیاسی رہنمائی موجود نہیں۔ اِس معاملے میں اصل مسئلہ مسلمانوں کے خود ساختہ سیاسی شاکلہ (political framework) کو توڑنا ہے۔ موجودہ سیاسی شاکلہ کی موجودگی میں قرآن اور سنت کی رہنمائی مسلمانوں کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content