افراد کی زندگی میں اور قوموں کی زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن کے مقابلے میں ایک سے زیادہ روش کو اختیار کرنا ممکن ہوتا ہے۔ مثلاً کسی نزاع (controversy) کے موقع پر یہ فیصلہ لینا کہ اس کے مقابلے کے لیے پُرامن طریقِ کار اختیار کیا جائے یا پرتشدد طریقِ کار، معاملہ کو یک طرفہ بنیاد پر ختم کردیا جائے، یا اس کو دوطرفہ بنیاد پر ختم کیا جائے، خاموشی اختیار کرلی جائے، یا فعّال رول ادا کیا جائے، صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے، یا ٹکراؤ کا طریقہ، معاملے کو ہر قیمت پر فوراً ختم کردیا جائے یا ا س کے مقابلے میں کوئی لمبی کارروائی کی جائے، وغیرہ۔
ہر ایسے موقع پر دو قسم کے مشیر (advisors)سامنے آتے ہیں— صحیح مشورہ دینے والے اور غلط مشورہ دینے والے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ صاحبِ معاملہ شخص اکثر غلط مشورے کو لے لیتا ہے اور صحیح مشورے کو چھوڑ دیتا ہے۔ اِس کی مثالیں ماضی میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں اور حال میں بھی۔ سوال یہ ہے کہ کیوں ایسا ہے کہ انسان اپنے معاملات میں صحیح مشورے کو قبول نہیں کرپاتا، وہ اکثر غلط مشورے کو مان لیتاہے۔ اس کا نتیجہ بعد کو نقصان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو آدمی کے اوپر جذبات غالب آجاتے ہیں، وہ خالص عقلی (rational)انداز میں نہیں سوچ پاتا۔ اِس بنا پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اُس وقت صحیح مشورے کی اہمیت کو سمجھ نہیں پاتا، وہ جذبات کے زیر اثر، غلط مشورے کو لے لیتا ہے، اگر چہ بعد کو اس کا نتیجہ مزید نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے۔ جب بھی کسی کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ اپنے متاثر ذہن کی بنا پر اُس کے بارے میں صحیح رائے نہیں قائم کرپاتا۔ مگر جو شخص معاملے سے الگ ہے، وہ اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ غیر جانب دارانہ انداز میں سوچے اور صحیح رائے دے سکے۔ ایسی حالت میںصاحبِ معاملہ کو چاہیے کہ دوسرا شخص اگر سنجیدہ ہے تو وہ اُس کی رائے پر دھیان دے اور اگر بے لاگ جائزے میں اس کی رائے درست نظر آئے تو وہ اس کو قبول کرلے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔