ایک مسلم رہنما نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے کہا— میرا مقصد عصرِ حاضر کے اعتبار سے، افرادِ کار کی تیاری ہے۔ اِس جلسے میں ایک مسلم نوجوان موجود تھا۔ بعدکو یہ نوجوان مذکورہ مسلم رہنما سے ملا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھ کو آپ اپنے مطلوب انسان کی حیثیت سے تیار کیجئے، مگر مذکورہ مسلم رہنما نے نوجوان کی اِس پیش کش پر دھیان نہیں دیا۔ انھوں نے کہا کہ —تم تو صرف ایک شخص ہو۔ جب اِس طرح کے کئی لوگ اکھٹا ہوجائیں گے، اُس وقت میں افراد کی تیاری کے بارے میں اپنا پروگرام شروع کروں گا۔موجودہ زمانے میں بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ وہ عصر حاضر کے اعتبار سے، افرادِ کار تیار کرنا چاہتے ہیں، لیکن اِن میں سے کوئی شخص مطلوب انداز میںیہ کام نہ کرسکا۔ مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ اِس کا سبب کیا ہے۔ یہ تمام لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ بھیڑ (crowd) کے سامنے تقریریں کرکے افرادِ کار تیار کریں، حالاں کہ افرادِ کار کی تیاری بھیڑ کو خطاب کرنے سے نہیں ہوتی۔ اُس کا طریقہ صرف ایک ہے اور وہ ہے— فرد پر فوکس کرنا، فرد کی نسبت سے سوچنا اور فرد کی نسبت سے تربیت کا پروگرام بنانا۔اصل یہ ہے کہ رہنما سب سے پہلے افراد کے ذہن کو بخوبی طورپر سمجھنے کی کوشش کرے، وہ افراد کے ذہن کو سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے خود اپنے آپ کو تیار کرے۔ رہنما جب اِس طرح اپنے آپ کو تیار کر کے بولے گا تو اس کی زبان قولِ بلیغ (4: 63) کی زبان بن جائے گی، اس کی بات ہر ذہن کو ایڈریس کرے گی، اس کی بات ہر فرد کے اندر یہ داعیہ پیدا کرے گی کہ وہ اپنے آپ کو تیار کرکے مطلوب انسان بنائے۔ یہی وہ طرز خطاب ہے جس کے ذریعے افرادِ کار کو تیار کیا جاسکتا ہے۔
اِس کے برعکس، جو لوگ بھیڑ کو لے کر سوچتے ہیں، جو اپنے آس پاس بھیڑ دیکھنا چاہتے ہیں، اُن کا طرزِ خطاب فطری طورپر جذباتی ہوجاتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر ایسی بات بولنے لگتے ہیں جو بھیڑ کو خوش کرے۔ اِس عوامی طرزِ خطاب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہنی ارتقا رک جاتا ہے، اور جس آدمی کا خود اپنا ذہنی ارتقا رک جائے، وہ ہر گز افرادِ کار کی تیاری کا عمل انجام نہیں دے سکتا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔