← Al-Risala March 2011Al-Risala March 2011
شتمِ رسول کا مسئلہ
Urdu · 7 min read
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر مسٹر سلمان تاثیر (عمر 66 سال) کو اسلام آباد میں 4 جنوری 2011 کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق، ان کو گولی مارنے والا خود اُن کا باڈی گارڈ ممتاز حسین قادری (عمر 26سال) تھا۔ اس نے گورنر کے اوپر سرکاری گن سے فائرنگ کی۔ اِس حملے میں گورنر پنجاب کو 6 گولیاں لگیں۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہوگئے۔ پولس نے قاتل کو گرفتار کرلیا۔ پولس کا کہنا ہے کہ قاتل کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یہ حملہ اِس لیے کیا کہ گورنر پنجاب نے پاکستان کے ناموسِ رسالت قانون کو ایک کالا قانون کہا تھا۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 5 جنوری، صفحہ 12 ؛ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 5 جنوری 2011 ، صفحہ 1 )۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِس طرح کسی فرد کا کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنا بلا شبہہ اسلام میں حرام ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ناموسِ رسالت کا قانون ایک بے بنیاد قانون ہے۔ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ فعل کرے جس کو سب وشتم کہا جاتا ہے، تب بھی اس کا جواب دلیل سے دیا جائے گا، نہ کہ گولی سے۔ بالفرض اگر ایسا کوئی قانون ہو، تب بھی شاتمِ کے خلاف کوئی عام آدمی کارروائی نہیں کرسکتا۔ وہ صرف یہ کرسکتا ہے کہ وہ ایسے شاتم کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرے اور پھر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت جو فیصلہ کرے، اس کے مطابق، اس پر عمل کیا جائے۔
موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ شتمِ رسول (blasphemy) کے نام پر اِسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں، کہیں جلوس اور مظاہرے کی صورت میں اور کہیں شاتم کو قتل کرنے کی صورت میں۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ شتم تو بند نہیں ہوا، البتہ اسلام بہت زیادہ بدنام ہوگیا۔ جو لوگ کسی کو شاتمِ رسول قرار دے کر اُس کے خلاف کارروائی کرتے ہیں، وہ خود شاتم سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
سزا کا تعلق خدا سے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں داعی الی اللہ (33: 46) کہاگیا ہے۔ اِس دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے آپ کو قرآن میں جو ہدایت دی گئیں، اُن میں سے ایک ہدایت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاصدع بما تؤمر وأعرض عن المشرکین۔ إنا کفیناک المستہزئین (15: 94-95) یعنی جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے، اس کو تم واضح طورپر لوگوں کے سامنے بیان کردو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے اِن استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِن آیات کو اس کے سببِ نزول کے اعتبار سے دیکھئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کو اپنی ساری توجہ دعوت کے کام میں لگانا چاہیے۔ اِس کے بعد اگر ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ کی طرف سے منفی رد عمل سامنے آتا ہے، وہ داعی کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ داعی کا سب وشتم کرتے ہیں، وہ داعی کو لوگوں کی نظر میں گھٹانے کے لیے توہین واستہزا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ رد عمل کی نفسیات سے بچتے ہوئے یک طرفہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی دعوت کو مزید مدلل کرنے کی کوشش کرے، حتی کہ وہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے اپنے رب سے دعا کرے۔ وہ کہے کہ خدایا، تو اِن مخالفین کو میرا ساتھی بنادے، تو ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ اِس کے بعد جہاں تک استہزا کرنے والوں کے استہزا کا معاملہ ہے، وہ اس کو پوری طرح خدا پر چھوڑ دے۔ داعی کا کام صرف پر امن دعوت ہے، اس کا کام لوگوں کو سزا دینا نہیں(88: 21-22) ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سب وشتم کی حیثیت در اصل آزادی کے غلط استعمال کی ہے۔ سب وشتم کی حیثیت جرم مستوجبِ سزا (cognizable offense) کی نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ شاتم کو پُرامن نصیحت کی جائے گی، اُس کو مجرم قرار دے کر اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں نصیحت کا تعلق داعی سے ہے اور سزا کا تعلق خدا سے۔ داعی اگر شاتم کو سزا دینے کی کوشش کرے تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہتا ہے، اور ایسا کرنا بلا شبہہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔
عفوودرگزر کا حکم
قرآن کی سورہ الجاثیہ میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: قل للذین آمنوا، یغفروا للذین لا یرجون أیّام اللہ، لیجزیَ قوماً بما کانوا یکسبون (45: 14) یعنی ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ عفو ودرگزر کا معاملہ کریں جو ایّام اللہ کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے، تاکہ اللہ ایک قوم کو اُس چیز کا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہے: نزلت الآیۃ بسبب أن رجلاً من قریش شتمَ عمر بن الخطاب، فہمّ أن یبطش بہ (تفسیر القرطبی 16/161 ) یعنی یہ آیت اِس واقعے کے بعد اتری کہ قریش کے ایک آدمی نے عمر بن الخطاب کا سب وشتم کیا۔ عمر نے چاہا کہ وہ اس کو پکڑیں اور ماریں۔ اِس موقع پر قرآن میں یہ ہدایت اتری۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس آیت سے اور اِس قسم کی دوسری آیتوں سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ سب وشتم کا معاملہ قانونی سزا (legal punishment) کا معاملہ نہیں ہے۔ کوئی شخص نعوذ باللہ، خدا کا استہزاء کرے، وہ صحابہ کا استہزا کرے، وہ قرآن کا استہزا کرے، تو اِس بنیاد پر اُس کو قانونی مجرم قرار دے کر قانونی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں سزا کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ اللہ اپنے علم کے مطابق، ایسے لوگوں کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ سزا دے گا۔ ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا دینا اسلام کی حمایت کے نام پر اسلام کے ساتھ بدترین عداوت کے ہم معنیٰ ہے۔
سب وشتم کے معاملے میں مسلمانوں کو جو کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ ایسے شخص کے لیے دعا کریں، وہ اُس سے مل کر اُس کو نصیحت کریں، وہ اس کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کریں، وہ اس کی اصلاح کی پر امن جدوجہدکریں، وہ اس کو جسمانی سزا دینے کا کام اپنے ذمے نہ لیں۔ مومن کی حیثیت اِس دنیا میں داعی کی ہے، نہ کہ داروغہ (88: 21-22) کی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
شتم اور ارتداد
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتمِ رسول کی سزا قتل ہے۔ اِسی طرح یہ سمجھا جاتاہے کہ اسلام میں ارتداد (apostasy) کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اِس سزا کو حد (legal punishment) کادرجہ دیا جاتاہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتَد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حدًّا)۔
opposing viewA view stated in order to be argued against
یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور (750-1258ء) کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اِس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں ۔ اِس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کردیا جائے۔
اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہلِ ایمان ہجرت کرکے حبش (Abyssinia) گئے تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جاکر عبید اللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔ یہ واضح طورپر ارتداد کا ایک واقعہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبید اللہ بن جحش مرتد ہوگئے ہیں، اُن کو بطورحد قتل کردو۔ اِس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ محمدی میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ اِسی طرح مدینہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام عبد اللہ بن اُبی تھا۔ یہ شخص کھلے طورپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شتم کرتا تھا، لیکن رسول اللہ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی نے شتم رسول کے جرم کا ارتکاب کیا ہے، اِس لیے اس کو بطور حد قتل کردو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سماجی جرم (social crime) پر سزا ہے، اسلام میں اعتقادی جرم (ideological crime)پر کوئی سزا نہیں۔شاتم اور مرتد کے لیے تبلیغ ونصیحت ہے، نہ کہ قتل کا حکم۔