امریکی صحافی الون ٹافلر (Alvin Toffler) کی ایک مشہور کتاب ہے۔ اس کا نام یہ ہے — فیوچر شاک:Future Shock
یہ کتاب پہلی بار 1970 میں چھپی۔ اب تک اس کے 5 ملین سے زیادہ نسخے ساری دنیا میں فروخت ہوچکے ہیں، نیز دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے بھی شائع ہوچکے ہیں۔
الون ٹافلر نے اپنی کتاب میں ایک سیمنار (seminar)کا واقعہ لکھا ہے۔ اِس سیمنار میں کنارے کی سیٹ پر ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ جب سب لوگ بول چکے تو آخر میں وہ آدمی اٹھا۔ اس نے کہا — میرا نام چارلس اسٹین ہے۔ میں تمام عمر سوئی کے ایک کارخانے میں کام کرتا رہا ہوں۔ میری عمر 77 سال ہے۔ میں وہ چیز پانا چاہتا ہوں جو میں اپنی نوجوانی کی عمر میں نہ پاسکا۔ میں مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ میں ایک تعلیم یافتہ انسان کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں:
My name is Charles Stein. I am a needle worker all my life. I am seventy-seven years old, and I want to get what I did not get in my youth. I want to know about the future. I want to die an educated man. (page 427)
گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو مذکورہ آدمی کا مسئلہ حقیقۃً معرفت یا ادراکِ حقیقت تھا، نہ کہ سادہ طورپر صرف ایجوکیشن۔ گویا کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میں ایک صاحبِ معرفت انسان (realized man) کی حیثیت سے مرنا چاہتا ہوں۔
یہی ہر انسان کی نفسیات ہے۔ ہر انسان اِس نفسیات میں جی رہا ہے کہ وہ حقیقت کا ادراک نہ کرسکا۔ گویا کہ ہر انسان اِس تلاش میں ہے کہ وہ یہ جان سکے کہ سچائی کیا ہے۔
ہر انسان معرفت کی تلاش میں ہے۔ خوش قسمت انسان وہ ہے جو معرفت کو پالے۔ اُس پر موت آئے تواِس حال میں آئے کہ وہ ایک صاحبِ معرفت انسان بن چکا ہو۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔