← Al-Risala March 2011Al-Risala March 2011
اتباعِ یہود کا کیس
Urdu · 7 min read
ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938 ) بر صغیر ہند کے عظیم مسلم مفکر مانے جاتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے بارے میں کئی باتیں لکھی ہیں۔ اُن کاایک مصرعہ یہ ہے:
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہود کی جو صفات آئی ہیں، اُن میں سے ایک ہے —اپنے کو مظلوم بتا کر دوسروں کے ظلم پر احتجاج کرنا۔ یہ بلاشبہہ یہود کی صفت ہے۔ اِس مزاج سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اِسی یہودی مزاج کا شکار ہیں۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود کے اندر جب دینی بگاڑ آیاتو انھوں نے دعوتی ذمے داری کو چھوڑ دیا (3: 187) ، وہ دوسروں کی طرح صرف ایک قوم بن کر رہ گئے۔ اِس غفلت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے یہود پر اپنی تنبیہات (warnings) بھیجیں۔ یہ تنبیہات آسمان سے نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ اسباب کی صورت میں انسانوں کے ذریعے اُن پر بھیجی گئی تھیں (17: 5) ۔ مثلاً بابل (عراق) کے حکمراں بخت نصر (Nebuchadnezzar) کے ذریعے 586 قبل مسیح میں، اور رومی حکمراں ٹائٹس (Titus) کے ذریعے 70 عیسوی میں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مگر یہودی علماء اور قائدین(religious leaders) نے یہ کیا کہ ایسے تمام واقعات کو انھوں نے خدائی تنبیہہ کے بجائے انسانی ظلم کے خانے میں ڈال دیا۔ یہودی لٹریچر اِس قسم کی داستانوں سے بھرا ہوا ہے۔ اِس پر یہودی علماء نے کثرت سے کتابیں لکھی ہیں۔ مثلاً:
Hasidic Tales of the Holocausts, by Eliach Y, New York, 1982
یہودی علماء کی اِس روش کی بنا پر ایسا ہوا کہ جن واقعات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اُن سے متنبہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کریں، اِس کے بجائے انھو ںنے یہ کیا کہ اِن واقعات کو کچھ انسانوں کی طرف منسوب کرکے انھوں نے اُن لوگوںکے خلاف شکایت (complaint) اور احتجاج (protest) کا ایک پورا کلچر چلا دیا۔ یہ شکایتی کلچر اتنا بڑھا کہ لغت (dictionary) میں باقاعدہ ایسے الفاظ شامل ہوگئے جو یہود کے اوپر دوسروں کے ظلم کو بتانے کے لیے وضع ہوئے تھے۔ گویا کہ ظلمِ یہود کی ایک مستقل ڈکشنری تیار ہوگئی، ظلم یہود کا اتنا زیادہ چرچا ہوا کہ وہ لٹریچر کا ایک جز بن گیا۔
یہودی لٹریچر کا مطالعہ کرکے اُن الفاظ واصطلاحات کو معلوم کیا جاسکتا ہے جو کثرتِ استعمال سے لٹریچر کا جز بن گئے، حتی کہ وہ ڈکشنری میں شامل ہوگئے۔ اِن میںسے کچھ الفاظ یہ ہیں:
Pogrom: Organized killing of Jews
Holocaust: Killing of millions of Jews by the Nazis,
Diaspora: Dispersion of the Jews after the Babylonian exile,
Ghetto: Jewish Slum outside the city as a sign of discrimination.
حدیث میں آیا ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمان یہود کے طریقے کی پیروی کریں گے۔ (لتتبعن شبراً بشبرٍ وذراعاً بذراعٍ)۔ یہ اتباعِ یہود صرف سحروعملیات جیسی چیزوں میں نہیں ہوگا، بلکہ وہ مذکورہ قسم کی سنتِ یہود کے بارے میں بھی ہوگا۔ یہود میں یہ خرابیاں زوال (degeneration) کے نتیجے میں آئی تھیں۔ یہی خرابیاں دوبارہ زوال کے نتیجے میں خود مسلمانوں کے اندر بھی یقینی طورپر پیداہوں گی۔موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ خرابی عمومی طورپر پیدا ہوچکی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں آخری حد تک اِ س کا شکار ہوچکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے صرف ایک کام کررہے ہیں، اور وہ ہے اپنے مسائل کا الزام دوسروں پر عائد کرکے ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرنا۔ ہر ایک کو مسلم مسائل کے پیچھے ’’اغیار‘‘ کی سازش اور دشمنی دکھائی دیتی ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ بلا شبہہ یہودی روش ہے۔ صحیح یہ ہے کہ مسلمان اِس روش سے توبہ کریں، وہ خود اپنے اوپر نظر ثانی کریں۔ وہ اِس صورتِ حال کو خدا کا انتباہ (warning) قراردے کر خود اپنی کمیوں اور کمزوریوں کو دریافت کریں اور ساری توجہ خود اپنی اصلاح پر لگا دیں، نہ کہ مفروضہ ظالموں کے خلاف ہنگامہ آرائی کرکے وہ خدا کے غضب میں مزید اضافہ کریں۔ اِس کے بغیر اُن کے حالات ہر گز بدلنے والے نہیں۔
خدائی انتباہ کے معاملے کو مفروضہ دشمنوں کی طرف منسوب کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک واقعہ کو غلط طورپر کسی اور سے منسوب کرنا ہے۔ اِس قسم کا مزاج کسی فرد یا قوم کو بہت بڑا فکری نقصان پہنچاتا ہے، اور وہ ہے معاملات کے صحیح تجزیہ (analysis) سے محرومی۔ کامیاب منصوبہ بندی ہمیشہ صحیح تجزیہ پر مبنی ہوتی ہے۔ جب صحیح تجزیہ نہ ہو تو کامیاب منصوبہ بندی بھی عملاً ناممکن ہوجاتی ہے۔
مثال کے طورپر 1948 میں بال فور کمیشن (Balfour Commission) کے تحت، فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ فلسطین کا تقریباً نصف حصہ یہود کو ملا، اور تقریباً نصف حصہ عرب مسلمانوں کو دیاگیا۔ بظاہر یہ واقعہ انسان کے ذریعہ پیش آیا، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اُسی قسم کا ایک خدائی معاملہ تھا جو اِس سے پہلے اِسی ارضِ فلسطین میں یہود کے ساتھ پیش آیا تھا۔ دونوں کے درمیان ظاہری صورت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے، اُن کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
ماضی میں یہود کے ساتھ جب ایسا واقعہ پیش آیا تو انھوںنے اس کو خدائی واقعہ کے بجائے انسانی واقعہ سمجھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ متعلق انسانوں کو اپنا دشمن قرار دے دیا، وہ اُن کے خلاف منفی سوچ اور منفی سرگرمیوں میں مبتلا ہوگئے۔ جو واقعہ اُن سے خدا کی طرف رجوع کا تقاضا کررہا تھا، وہ اُن کے غیر حقیقی رسپانس کے نتیجے میں اُن کے لیے خدا سے مزید دوری کا سبب بن گیا۔
ٹھیک یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا۔ 1948 کے بعد مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں نے وہی غیر حقیقی رسپانس دیا جو اِس سے پہلے یہود نے دیا تھا۔ ذاتی محاسبہ کے بجائے انھوں نے یہ کیا کہ انھوں نے یہود اور یہود کے مفروضہ حلیفوں کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کردی۔ اِس کا نتیجہ فطری طور پر برعکس صورت میں نکلا۔ 1948 میں جو کچھ اُنھیں ملا تھا، 60 برس سے زیادہ مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود انھوں نے اس کو بھی کھو دیا۔ آج تحریکِ فلسطین اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر پارہی ہے جہاں اس کے پاس مایوسی اور محرومی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ 57ملکوں میں مسلمانوں کا سیاسی اقتدار قائم ہے۔ اِس کے علاوہ، دنیا کے تقریباً ہر ملک میں مسلمان موجود ہیں۔ ہر جگہ وہ ایک ہی قسم کی بولی بول رہے ہیں، اور وہ یہ کہ— ہم دشمنوں کے محاصرہ (seige) میں ہیں، ہمارے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، عالمی میڈیا ہماری تصویر بگاڑنے میں مصروف ہے، ہمارے ساتھ ہر جگہ امتیاز کا سلوک کیا جاتا ہے، ہم کو دوسرے درجے کا شہری (second class citizen) بنا دیا گیا ہے، وغیرہ۔
اِس قسم کی تمام باتیں بلا شبہہ سنتِ یہود کی پیروی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے خدا کے دین کو دین ِ مہجور (25: 30) بنا دیا ہے، انھوں نے دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو ترک کردیا ہے، انھوںنے اسلام کی اسپرٹ کو بھلا دیا ہے، وہ اسلام کو صرف بطور فارم لیے ہوئے ہیں۔ انھوں نے اپنی قومی سرگرمیوں کو اسلام کا نام دے رکھاہے، وہ انسانوں سے نفرت کرتے ہیں، جب کہ اُنھیں انسانوں کا خیر خواہ بننا چاہیے تھا، آج کے مسلمانوں کا کنسرن (concern) خدا نہیں ہے، بلکہ وہی مادی مفادات ہیں جو دوسری قوموں کا کنسرن بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کی سوچ تمام تر دنیا رُخی سوچ بنی ہوئی ہے، جب کہ اس کو خدا رخی سوچ بننا چاہیے، اسلام اب اُن کے لیے فخر(pride) کا موضوع ہے، نہ کہ اتباع کا موضوع، مسلم معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر عملاً ختم ہوگیاہے، مسلمانوں کے تقریباً تمام لکھنے اور بولنے والے عملاً اپنی قوم کے ترجمان ہیں، نہ کہ خدا کے دین کے ترجمان، وغیرہ۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ تمام چیزیں مسلمانوں کے زوال کی کھلی علامت ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو کچھ ہور ہا ہے، وہ سب اُن کے اِسی زوال کی بنا پر خدا کی تنبیہات ہیں، نہ کہ انسانوں کا ظلم۔ مگر مسلمان اِن واقعات کو انسانوں کی طرف منسوب کرکے ان کے خلاف چیخ وپکار میں مشغول ہیں۔ مسلمانوں پر فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ اِس منفی روش کو مکمل طور پرختم کردیں۔ وہ دوسروں سے نفرت کو چھوڑ دیں اور خود اپنی کوتاہیوں کی اصلاح کریں، یہی مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ اِس کے سوا دوسری ہر چیز صرف اُن کی تباہی میں اضافہ کرے گی، وہ ان کی فلاح کا سبب بننے والی نہیں۔