اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ ہر زمانے کے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچتا رہے (25: 1) ۔ پیغام رسانی کا یہ سلسلہ آدم سے لے کر پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک جاری رہا ۔ اِس پیغام رسانی کا مقصد یہ تھا کہ جن لوگوں کے اندر حق کی طلب ہے، وہ حق کو پالیں۔ اور جو لوگ حق کے طالب نہیں، اُن کا منکر ہونا ایک ثابت شدہ واقعہ بن جائے۔ اِسی بنیاد پر آخرت کی عدالت میں دونوں فریقوں کے لیے جنت یا جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ساتویں صدی کے رُبع اول میںآئے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ آپ کے بعد اللہ کی طرف سے کوئی اور پیغمبر آنے والا نہیں (33: 40) ۔ ختمِ نبوت کا یہ معاملہ کسی پُر اسرار سبب سے نہیں ہوا، اس کا سبب صرف یہ تھا کہ خدا کا کلام قرآن محفوظ ہوگیا (15:9) ، اور اب یہ کافی ہوگیا کہ ہر زمانہ اور ہر نسل کے لوگوں تک اِس محفوظ قرآن کو پہنچا دیا جائے۔ گویا کہ اب قرآن، پیغمبر کا قائم مقام ہے۔ ختم نبوت کے بعد تحفظِ نبوت کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ نبوت کو مسلسل ہر دور میں جاری رکھنے کا مسئلہ ہے۔ اِس کی عملی صورت یہ ہے کہ قرآن کا ترجمہ ہر زبان میں چھاپ کر لوگوں تک پہنچایا جائے اور مسلسل پہنچایا جاتا رہے۔
یہی امتِ محمدی کی اصل ذمے داری ہے۔ امتِ محمدی کا اللہ کی نظر میں امتِ محمدی قرار پانا، اِسی پر موقوف ہے کہ پیغام رسانی کا یہ کام کسی وقفے کے بغیر ہر دورِ تاریخ میں جاری رہے۔ پیغامِ نبوت کے اِس تبلیغِ عام کے مشن میںامتِ محمدی کے ہر فرد کو شریک ہونا ہے، حتی کہ اگر کوئی شخص علم نہ رکھتا ہو تو وہ قرآن کے چھپے ہوئے ترجمے حاصل کرکے اُسے لوگوں تک پہنچائے۔ ملت کے کسی فرد کا امتِ محمدی کا فرد ہونا، اِسی دعوتی کام کی ادائیگی پر موقوف ہے۔ جو لوگ اِس دعوتی کام کو انجام نہ دیں، وہ بلا شبہہ ایک انتہائی سنگین خطرہ مول لے رہے ہیں، وہ یہ کہ حشر کے میدان میںاُن سے یہ کہہ دیاجائے کہ تم امتِ محمدی سے الگ ہوجاؤ، امت محمدی سے تمھارا تعلق نہیں۔امتِ محمدی کا فرد ہونے کے لیے جو چیز لازمی ہے، وہ خود ساختہ محمدی عشق نہیں ہے، بلکہ محمدی مشن میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔