Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala March 2011
Al-Risala March 2011

دعوت، دعا

Urdu · 2 min read

ہمارے مشن کے ایک صاحب جو دعوتی کام کرتے ہیں، انھوں نے پوچھا کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم ایک شخص تک دعوت پہنچانا چاہتے ہیں، لیکن بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص دعوت کو قبول کرنے والا نہیں ہے۔ ایسی حالت میں ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ دعوت کا فارمولا یہ ہے — جہاں دعوت کے مواقع ہوں، وہاں دعوہ ورک (Dawah work) ، اور جہاں بظاہر دعوت کے مواقع دکھائی نہ دیں، وہاں دعا ورک (Dua work)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کا کوئی ذاتی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے خدا سے دعا کرتے ہیں، لیکن دعوتی کام (Dawah work) کے معاملے میں وہ دعا کی اہمیت سے بے خبر ہیں۔ حالاں کہ دعا کا تعلق جس طرح دوسری تمام چیزوں سے ہے، اُسی طرح اس کا تعلق دعوت سے بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا، دعوت کے لیے لازمی جز کی حیثیت رکھتی ہے۔ دعا کے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر انجام نہیں دیا جاسکتا۔

دعا کا تعلق صرف مدعو سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق داعی سے بھی ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ مسلسل طورپر خود اپنے لیے دعا کرتا رہے۔ وہ اللہ سے برابر موثر دعوت کی توفیق مانگتا رہے۔ وہ بار بار اِس کے لیے دعا کرتا رہے کہ اللہ اس کے لیے ایسے اسباب مہیا کردے جس کے ذریعے وہ دعوت کاکام زیادہ بہتر طورپر انجام دے سکے۔

یہی معاملہ مدعو کا ہے۔ داعی اپنے مدعو کا بہت زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے۔ خیر خواہی کا یہ جذبہ اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے مدعو کے حق میں برابر دعا کرتا رہے۔ دعوت کو قبول کرنا ہمیشہ اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی انسان کا دل حق کو قبول کرنے کے لیے کھلتا ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے کسی کی کنڈیشننگ ٹوٹتی ہے۔ اللہ کی توفیق ہی سے یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص دعوت پر سنجیدگی سے غور کرے۔ یہ تمام چیزیں تقاضا کرتی ہیں کہ داعی ہمیشہ اپنے مدعو کے لیے اللہ سے دعا کرتا رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content