تعدیل (equation) کے اعتبار سے، مسلم تاریخ کے تین دور ہیں — پہلا دور وہ ہے جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔ دوسرا دور وہ ہے جب کہ مسلمانوں نے دنیا میں اپنا ایمپائر بنا لیا تھا۔ یہ دور آٹھویں صدی عیسوی سے لے کر سترھویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ تیسرا دور وہ ہے جس کو نوآبادیاتی دور (Colonial Period)کہاجاتا ہے۔ یہ دور اٹھارھویں صدی عیسوی میں شروع ہوا۔ یہ دور بیسویں صدی کے وسط میں عملاً ختم ہوگیا، لیکن نفسیاتی اعتبار سے، موجودہ زمانے کے مسلمان اب بھی اسی کے اثرات کے تحت جی رہے ہیں۔
مسلم تاریخ کے پہلے دور میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان جو تعدیل (equation) تھی، وہ داعی- مدعو کی تعدیل تھی۔ اِس دور میں مسلمان مثبت نفسیات میں جیتے تھے۔ دوسری قومیں ان کے لیے خیر خواہی (نُصح) کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ دوسرے دور میں یہ تعدیل بدل گئی۔ اب مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان حاکم -محکوم کی تعدیل قائم ہوئی۔ اِس تعدیل کے دور میں مسلمان احساسِ برتری کا شکار ہوگئے، وہ دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنے آپ کو برتر سمجھنے لگے۔ مسلم تاریخ کا تیسرا دور وہ ہے جب کہ نو آبادیاتی طاقتوں نے مسلمانوں کے سیاسی ایمپائر کا خاتمہ کردیا۔ اب مسلمانوں کے درمیان تعدیل کا تیسرا دور آیا۔ اب مسلمان اپنے آپ کو مظلوم اور دوسری قوموں کو ظالم سمجھنے لگے۔
اِس تیسرے دور کی آمد پر مسلمان عام طو رپر منفی نفسیات کا شکار ہوگئے۔ اِس د ور میں مسلمانوں کے اندر تلخی اور شکایت اور احتجاج (protest) کا مزاج پیدا ہوگیا۔ یہ مزاج بڑھتے بڑھـتے اُس انتہا پسندانہ رد عمل تک پہنچ گیا جس کو تشدد (violence) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان عام طور پر اِسی تیسرے دور میں جی رہے ہیں۔ یہ دور، دوسرے لفظوں میں، نفسیاتی خودکشی (psychological suicide)کا دور ہے۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اِس مہلک نفسیات سے باہر نکالا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔