Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala March 2011
Al-Risala March 2011

احیاءِ اسلام

Urdu · 1 min read

موجودہ زمانے میں احیائِ اسلام سے کیا مراد ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو قدیم روایتی زمین کے مقابلے میں جدید سائنسی زمین پر کھڑا کیا جائے، تاکہ اسلام آج کے ذہن کے لیے قابلِ فہم ہوسکے، وہ لوگوں کو عصر حاضر سے ریلیونٹ (relevant) نظر آئے۔

موجودہ زمانے میں اسلام کے احیاء کے لیے جو کام مطلوب ہے، اُس کام کو بنیادی طورپر حسب ذیل تین عنوانات کے تحت بیان کیا جاسکتا ہے:

1 ۔ مبنی بر ذہن روحانیت(mind-based spirituality)

2 ۔ مبنی بر عقل استدلال (reason-based argument)

3۔ مبنی بر امن عمل(peace-based activism)

مبنی بر ذہن روحانیت سے مراد یہ ہے کہ روحانیت یا تزکیہ کو مراقبہ (meditation) کے بجائے فکر وتدبر پر قائم کرنا۔مراقبہ قلب کو مرکز بنا کر کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، تدبر عقلی غور وفکر کی سطح پر انجام دیا جاتا ہے۔ اس لیے قرآن میں تفکر اور تدبر پر بہت زیادہ زور دیاگیا ہے۔

مبنی برعقل استدلال سے مراد وہی چیز ہے جس کو سائنسی استدلال کہا جاتا ہے، یعنی قیاسات وتمثیلات کے بجائے معلوم حقائق کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر ثابت کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں استدلال کا علمی طور پر مسلّم طریقہ ہے۔مبنی برامن عمل کا مطلب ہے تشدد سے مکمل طورپر بچتے ہوئے صرف پر امن ذرائع (peaceful means)سے اپنے مقصد کے لیے جدوجہد کرنا۔ یہی موجودہ زمانے میں مقصد کے حصول کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلّح طریقہ تخریب کے لیے کارگر ہوسکتاہے، مگر تعمیر کے لیے وہ کارگر نہیں۔اِس معاملے کی تفصیل کے لیے ہمارے یہاں کی مطبوعہ کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ مثلاً انسان کی منزل، مذہب اور سائنس، امنِ عالم اور پیغمبر امن (Prophet of Peace) ، وغیرہ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.