موجودہ زمانے کے مسلمان مختلف ملکوں میں مسلّح تحریکیں چلا رہے ہیں۔ یہ تمام تحریکیں غیرحکومتی تنظیموں (NGOs) کے تحت چلائی جارہی ہیں۔ ایسے افراد کو غیر ریاستی ایکٹر (non-state actors) کہاجاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی مسلح تحریکوں کے جواز کے لیے ابن تیمیہ کے فتوے کا حوالہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابن تیمیہ کے زمانے میں تاتاری جارحیت کا مسئلہ پیداہوا تو ابن تیمیہ نے فتوی ٰ دیا کہ مسلمان اُن کے خلاف لڑیں۔اِسی طرح ہم اپنے زمانے کی جارح طاقتوں سے لڑ رہے ہیں۔یہ حوالہ غلط ہے۔ یہ درست ہے کہ ابن تیمیہ (وفات: 728ھ؍1328ء) کے زمانے میں تاتاری حملے کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تاتاریوں نے بغداد کے آخری خلیفہ المستعصمکو1258 ء میں ہلاک کردیا۔ اِس کے بعد مسلح تاتاری مسلم شہروں میں پھیل گئے اور بڑے پیمانے پر وہاں قتل وغارت گری کرنے لگے۔ یہ ابن تیمیہ کا زمانہ تھا۔ انھوں نے مصر وشام کے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ تاتاری جارحیت کا مقابلہ کرو۔ مگر ابن تیمیہ کا طریقہ یہ نہیں تھا کہ وہ غیر ریاستی عوام کو تاتاریوں سے لڑنے کا فتویٰ دیں۔ اُس وقت اب بھی شام میں مسلم حکمراں ابن النحاس اور مصر کا حکمراں سلطان محمد بن قلاؤون موجود تھا۔ ابن تیمیہ دونوں مسلم حکمرانوں سے ملے اور دونوں کو تاتاریوں کی جارحیت کے خلاف جنگ کے لیے ابھارا۔ اِسی کے ساتھ انھوں نے مصر وشام کی مسجدوں میں تقریریں کرکے مسلم عوام سے کہا تم لوگ اِس دفاعی مہم میں ان مسلم حکمرانوں کا ساتھ دو (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر، جلد 14 )۔
حقیقت یہ ہے کہ جارح کے خلاف مسلح دفاع صرف ریاست کا کام ہے، وہ عوام کا کام نہیں (الرحیل للإمام)۔ ابن تیمیہ نے اُس وقت کے سلطان سے تاتای جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے کہا تھا۔انھوںنے یہ نہیں کہا تھا کہ عوام بذاتِ خود لڑنا شروع کردیں، جیساکہ موجودہ زمانے کے مسلمان کررہے ہیں۔ اسلام میں غیر ریاستی تنظیموں کو صرف پر امن جدوجہد کا حق ہے، مسلح جدوجہد کا حق ہر گز اُن کو حاصل نہیں۔ یہی اسلام کی تعلیم ہے اور یہی ابن تیمیہ کا موقف بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔