جہاد کیا ہے۔ جہاد کے لفظی معنی کوشش (struggle) کے ہیں۔ اِس میںمبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ کوشش کرنا۔ قرآن اور حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کا لفظ تقریباً اُسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس معنی میں آج کل مشن (mission) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ مشن کا مطلب ہے — کسی تعمیری مقصد کے لیے سنجیدہ جدوجہد:
Dedicated effort towards a constructive goal.
قرآن میں اِس سلسلے میں یہ آیت آئی ہے: وجاہدوا فی اللہ حق جہادہ، ہو اجتباکم (22: 78) ۔ اِس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جہاد کا تعلق اُس مخصوص مشن کے لیے ہے جس کے لیے اہل ایمان کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ مشن شہادت علی الناس (22: 78) کا مشن ہے۔ اس آیت میں شہادت سے مراد دعوت ہے، یعنی خدا کے پیدا کئے ہوئے انسانوں تک خدا کا پیغام پہنچانا۔ یہی دعوت ہے اور یہی دعوتی مشن وہ نشانہ ہے جس کے لیے اہل ایمان کو بھر پور کوشش کرنا چاہیے۔ اپنی زندگی، اپنا وقت، اپنا پیسہ، اپنے وسائل ہر چیز کو اِس مشن میں لگا دینا چاہیے۔
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آ ئی ہے: الجہاد ماضٍ منذ بعثنی اللہ إلی أن یقاتل آخر أمتی الدجال، لا یبطلہ جَور جائر ولا عدل عادلٍ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 2532 )
اِس روایت کے مطابق، جہاد سے مراد ایک ایسا عمل ہے جو عادل حکمراں کے زمانے میں بھی جاری رہے۔ ایسا عمل صرف پُرامن دعوتی مشن ہوسکتا ہے۔ صحیح مسلم کی ایک روایت کے مطابق، دجال سے جو مقابلہ ہوگا، وہ بھی اسلحہ کے ذریعہ نہیں، بلکہ حجت (argument) کے ذریعہ ہوگا(إن یخرج وأنا فیکم فأنا حجیجہ دونکم)۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد پرامن دعوتی مشن کا نام ہے۔ دوسری کوئی چیز اس کا صرف اضافی جز (relative part) ہے، نہ کہ حقیقی جز۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔