خلیفہ ثانی عمر فاروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ اللہ یرفع بہذا القرآن أقواما ویضع بہ آخرین ( الدارمی، رقم الحدیث: 3365 ) یعنی اللہ اِس قرآن کے ذریعے ایک قوم کو اٹھاتا ہے اور اُسی کے ذریعے وہ دوسری قوم کو گراتا ہے۔ یہ اصول امتِ مسلمہ کی ابتدائی تاریخ میں پوری طرح ایک واقعہ بن چکا ہے۔ مورخین نے عام طور پر اِس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ مثال کے طورپر پروفیسر فلپ ہٹی (وفات:1978 ) نے اپنی کتاب تاریخ عرب (The History of the Arabs) میں تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل کے قبولِ اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ — مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی، جہاں اُن کی تلوار ناکام ہوچکی تھی:
The religion of Muslims has conquered, where their arms had failed.
قرآن ایک آئڈیالوجی کی کتاب (book of ideology) ہے۔ اس کے مقابلے میں، تلوار مادی طاقت کی علامت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ تلوار کے مقابلے میں قرآن زیادہ طاقت ور ہے۔ تلوارکی فتح، مفتوح کے خاتمہ کی قیمت پر ہوتی ہے، جب کہ قرآن آدمی کے دل ودماغ کو مسخر کرکے اس کو آپ کا ساتھی بنا دیتا ہے۔ تلوار کی فتح صرف میدانِ جنگ کی فتح ہے، اور قرآن کی فتح خود انسان کی فتح ، اور جب انسان فتح ہوجائے تو گویا سب کچھ فتح ہوگیا۔
قرآن، خدا کا محفوظ ہدایت نامہ ہے۔ قرآن آدمی کی فطرت کو ایڈریس کرتا ہے۔ قرآن آدمی کی تلاش کا جواب ہے۔ قرآن آدمی کو دنیا اور آخرت کی کامیابی کا راز بتاتا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن صرف ایک نظریاتی کتاب نہیں، بلکہ اس کی پشت پر ایک واقعاتی تاریخ موجود ہے جو اس کی تسخیری طاقت کی تصدیق کرتی ہے۔ قرآن نظریہ بھی ہے اور تاریخ بھی۔ اِن باتوں نے قرآن کو ابدی طور پر ایک ناقابلِ تسخیر کتاب بنا دیا ہے۔جو لوگ قرآن کی دعوت کو لے کر اٹھیں، اُن کے لیے کسی اور طاقت کی ضرورت نہیں۔ قرآن اپنے آپ میںاُن کی تمام دعوتی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کافی ہے۔ قرآن فاتحِ انسان بھی ہے اور فاتحِ عالم بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔