یہود نے اپنے دورِ زوال میں جو روش اختیار کی تھی، اس کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: من الذین ہادُوا یحرّفون الکلم عن مواضعہ (4: 46) یعنی یہود میں سے ایک گروہ (یہودی علماء اور قائدین) کلام کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا دیتا ہے۔
اس آیت کی تشریح مفسر القرطبی نے اِن الفاظ میں کی ہے: یتأوّلونہ علی غیر تأویلہ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سیاق (context) کو بدل کر کلامِ الٰہی کی تشریح کرتے ہیں۔
اِس معاملے کی ایک مثال اصولی نجات کو گروہی نجات کے ہم معنیٰ بنانا ہے ۔ قرآن میںارشاد ہوا ہے: وقالوا کونوا ہوداً أونصاریٰ تہتدوا، قل بل ملّۃَ إبراہیم حنیفاً (2: 135) یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بنو تو ہدایت یاب ہوگے۔کہو، بلکہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودکی اصل گمراہی کیا تھی۔ یہود کی اصل گمراہی یہ تھی کہ انھوں نے اصولی دین کو قومی دین کے ہم معنیٰ بنا لیا تھا۔ ایک لفظ میں، اُن کا کیس خدائی مذہب کو ملّی بنانا (communalization of divine religion) تھا۔
یہ دراصل دورِ زوال کا ظاہرہ ہے۔ جب کسی اہلِ کتاب گروہ پر زوال آتا ہے تو اُس کا حال یہی ہوجاتا ہے۔ وہ خدائی مذہب کو اپنی قومی خواہشوں پر ڈھال لیتا ہے۔ وہ خدائی مذہب کی ایسی تاویل کرتا ہے جو اس کے قومی مزاج کے مطابق ہو۔
یہی حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہوا ہے۔ انھوں نے خود ساختہ تاویل (interpretation)کے ذریعے اصولی نجات کو گروہی نجات کے ہم معنی بنا لیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اسلام عملاً قومی اسلام (communalized Islam) بن گیا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیمات کو ایسے الفاظ میں بیان کرتے ہیں جو اُن کی ملی خواہشوں کے مطابق ہوں۔ اِس قسم کا خود ساختہ مذہب اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہونے والا نہیں، نہ یہودیوں سے اور نہ مسلمانوں سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔