Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala March 2011
Al-Risala March 2011

مذہبی مضاہاۃ، سیاسی مضاہاۃ

Urdu · 4 min read

یہود ونصاریٰ اپنے دورِ زوال میں جن برائیوں میں مبتلا ہوئے، اُن میں سے ایک برائی وہ ہے جس کو قرآن میں مُضاہاۃ (9: 30) کہاگیا ہے۔ مضاہاۃ کے لفظی معنی مشابہت (imitation) کے ہیں، یعنی غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اختیار کرلینا۔ مثلاً غیر دینی لوگوں کے یہاں خدا کی پرستش کے بجائے بت کی پرستش کا رواج ہے، اِس سے متاثر ہو کر اس روش کو اختیار کرلینا، مگر اس کو بزرگوں کی پیروی کا نام دے دینا، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مضاہاۃ کی ایک صورت وہ ہے جس کو مذہبی مضاہاۃ (religious imitation) کہا جاسکتا ہے۔ بدعت کے تمام طریقے اِسی مذہبی مضاہاۃ کی فہرست میں شامل ہیں۔ بدعت، مجرد بدعت کانام نہیں ہے۔ بدعت در اصل یہ ہے کہ غیر دینی طریقے کو دینی نام دے کر اُس کو اختیار کرلیا جائے۔

موجودہ زمانے میں مضاہاۃ کی ایک اور قسم بہت بڑے پیمانے پر ظاہر ہوئی ہے۔ اس کو سیاسی مضاہاۃ (political imitation) کہاجاسکتا ہے، یعنی سیکولر پارٹیوں اور سیکولر تحریکوں کے طریقے کو اسلامی نام دے کر اس کو اسلامی عمل کے طور پر اختیار کرلینا۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے احتجاج (protest) کے طریقے کو بہت بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا ہے۔ یہ بلا شبہہ سیاسی بدعت یا سیاسی مضاہاۃ ہے۔ مثلاً اسلامی مسائل کے نام پر احتجاجی بیانات، احتجاجی مظاہرے، احتجاجی کانفرنسیں، احتجاجی ریلی، احتجاجی دھرنا، احتجاجی نعرے، وغیرہ۔

احتجاج (protest) بلاشبہہ سیکولرزم کا طریقہ ہے، وہ اسلام کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مقدس کعبہ کو عملاً بت خانہ بنا دیا گیا تھا، مگر آپ نے اُس پر احتجاج نہیںکیا۔ اِسی طرح تیرہ سالہ مکی دور میں رسول اور اصحابِ رسول پر ہر قسم کے مظالم کئے گئے، لیکن آپ نے اِس پر کوئی احتجاج نہیں کیا۔ دار الندوہ میںآپ کے خلاف بائکاٹ کی تجویزپاس کی گئی، مگر آپ نے اس کے خلاف احتجاج نہیں کیا۔ آپ کو اور آپ کے اصحاب کو اپنے وطن سے نکلنے پر مجبور کیاگیا، لیکن آپ نے اس پر احتجاج نہیں کیا، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ احتجاج (protest) اپنے آپ میں سر تاسر ایک غیراسلامی طریقہ ہے۔ احتجاج کو خوب صورت نام دے کر اس کو اسلامی نہیں بنایا جاسکتا۔ مثلاً پُر امن احتجاج، دینی احتجاج، اپنے حق کے لیے احتجاج، حکمراں کے ظلم کے خلاف احتجاج، پیغمبر کی شان میں گستاخی کے خلاف احتجاج، عبادت خانے کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج، اسلام کی توہین کے خلاف احتجاج، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس مضاہاۃ یا مشابہتِ غیر کی نفسیات کیا ہے۔اِس کا جواب قرآن کی اِس آیت میں ملتا ہے: تشابہت قلوبہم (2: 118) یعنی سوچ کی سطح پر مشابہت۔ دور زوال میں حاملِ کتاب امتوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے اندر دینِ خداوندی پر مبنی سوچ ختم ہوجاتی ہے۔ خدائی طرزِ فکر ان کے ذہن میں زندہ تصورکے طور پر باقی نہیں رہتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آس پاس کے غیر دینی افکار سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ خدائی ماڈل عملاً اُن کے لیے ایک غیر معلوم چیز بن جاتا ہے۔ وہ غیر خدائی ماڈل کو دینی ٹائٹل دے کر اختیار کرلیتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں مضاہاۃ کی دونوں قسمیں مکمل طور پر آچکی ہیں، مذہبی مضاہاۃ بھی اور سیاسی مضاہاۃ بھی۔ مسلمانوں کے اندر طرح طرح کی جو مبتدعانہ رسمیں ہیں، وہ سب اِس مذہبی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً جنم اشٹمی کی جگہ میلاد النبی، ہنومان چالیسہ کی جگہ قرآن خوانی، وغیرہ۔

موجودہ زمانے کے مسلمان ساری دنیا میں ملی سیاست کے نام سے جو سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، وہ سب کی سب بلا استثنا سیاسی مضاہاۃ کا نتیجہ ہیں۔ ملی سیاست یا اسلامی سیاست کے نام پر موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے بہت بڑے پیمانے پر غیر اسلام کو اسلامائز کررکھا ہے۔

یہ نام نہاد اسلامی سیاست اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہودی سیاست ہے۔ اس کا کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہ دنیا میں ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔ مسلمانوں کے کرنے کا کام دعوت ہے، نہ کہ سیاست۔ مسلمان جب تک مضاہاۃکے یہودی طریقے کو چھوڑ کر دعوت کا طریقہ اختیار نہ کریں، اُس وقت تک وہ خدا کی رحمت سے محروم رہیں گے، دعوت الی اللہ کے بغیر ان کو ہر گز خداکی نصرت ملنے والی نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content