قرآن کی سورہ ص میں بتایا گیا ہے کہ: کتاب أنزلناہ إلیک مبارک لیدبَّروا اٰیاتہ ولیتذکر أولو الألباب (38: 29) یعنی یہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اُس سے نصیحت حاصل کریں۔
اِس آیت میں تدبر سے مراد تفکر ہے۔ تفکر کیا ہے، تفکر دراصل عقل کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اپنی عقل کو کھلا رکھو، کیوں کہ عقلی غور وفکر کے ذریعے ہی کسی کو قرآن سے معنوی نصیحت ملتی ہے، نہ کہ محض لفظی تلاوت سے۔
اِس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے تو اُس وقت وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے۔ اسی طرح جب وہ نماز میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھے تو وہاں بھی وہ اپنی عقل و فہم کو کھلا رکھتے ہوئیقرآن کی تلاوت کرے۔
کوئی شخص جب اِس طرح قرآن کی تلاوت کرے گا تو بار بار ایسا ہوگا کہ قرآن کی کوئی آیت یا قرآن کا کو ئی لفظ اس کی عقل کو اسٹرائک (strike) کرے گا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹھہر کر اُس پر غور کرے۔ اِس طرح اس کو قرآن سے نصیحت کی غذا ملتی رہے گی۔
مثال کے طورپر قرآن کو پڑھتے ہوئے یہ آیت آپ کے سامنے آئی: فأثابہم اللہ بما قالوا جنات تجری من تحتہا الأنہار (5: 85) ۔ اِس آیت کو پڑھتے ہوے آپ کو یہ حدیث یاد آئی: مَن قال لا إلٰہ إلا اللہ، دخل الجنۃ ( الطبرانی، رقم الحدیث: 2447 )۔
اس کے بعد آپ نے سوچا کہ دونوں آیتوں میں مطابقت کیا ہے ۔ پھر غور کرنے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ حدیث میں جس ’’قول‘‘ کا ذکر آیا ہے، اس کی تشریح قرآن سے ہوتی ہے، یعنی حدیث میں جس قول پر جنت کا وعدہ کیاگیا ہے، اُس سے مراد قولِ معرفت ہے، نہ کہ محض لفظی قول۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تدبر اورتفکر (contemplation) کہاگیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔