قرآن کی سورہ البقرہ میںارشاد ہوا ہے: وقالوا کونو ہوداً أو نصاریٰ تہتدوا، قل بل ملّۃ إبراہیم حنیفاً، وما کان من المشرکین (2:135) یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا نصرانی بن جاؤ تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو کہ نہیں، بلکہ ابراہیم کا دین (اختیارکرو) جو اللہ کی طرف یکسو تھا، اور وہ شریک کرنے والوں میں نہ تھا۔
قرآن کی اِس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی امت جب اپنے دورِ زوال (de-generation) میں پہنچتی ہے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے۔ ایسی امت ہدایت (guidance) کو گروہ (community) سے وابستہ کردیتی ہے، نہ کہ اصولی تعلیمات سے۔ یہود ونصاریٰ کا یہی حال اپنے دورِ زوال میں ہوا۔ انھوں نے گروہ کو دین کے ہم معنیٰ سمجھ لیا۔ ان کا عقیدہ یہ ہو گیا کہ وہ ایک نجات یافتہ گروہ ہیں، ہدایت کا معیار یہ ہے کہ آدمی اُن کے گروہ کے ساتھ وابستہ رہے۔ مذکورہ آیت میں ملتِ ابراہیم سے مراد دین ابراہیم ہے۔ گویا کہ یہاں تقابل گروہی ہدایت اور اصولی ہدایت کے درمیان کیاگیا ہے۔
اِس اصول کا تعلق صرف قدیم امتوں، یہودونصاریٰ، سے نہیں ہے، بلکہ بعد کی امت، مسلم امت، بھی یکساں طورپر اس کی مخاطب ہے۔ مسلم امت اگر شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ سمجھ لے کہ مسلمان اور اسلام دونوں ایک ہیں۔ وہ یہ عقیدہ بنالے کہ صرف گروہی اعتبار سے جو لوگ مسلم جماعت میں شامل ہیں، وہ اپنے آپ ہدایت پر ہیں اور اُن کے لیے نجات یقینی ہے تو یہ عقیدہ بھی اتنا ہی زیادہ غلط ہوگا جتنا کہ یہودیوں اور مسیحیوں کا عقیدہ۔
خدا کا دین ہمیشہ اصول پر قائم ہوتا ہے، یعنی اللہ سے شدید محبت اور اللہ سے شدید خوف۔ جو لوگ اپنی زندگی میں اِس اصول کو پوری طرح اختیار کریں، وہ خدا کے یہاں ہدایت یاب قرار پائیںگے۔ کسی نسلی جماعت یا کلچرل گروہ سے وابستہ ہونا ہدایت یاب ہونے کا ثبوت نہیں۔ ہدایت کا یہی معیار (criterion)ماضی کے لیے بھی ہے اور ہدایت کا یہی معیارحال کے لیے بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔