قرآن کی سورہ الحجر میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: فاصدع بما تُؤمر وأعرض عن المشرکین۔ إنا کفیناک المستہزئین (15: 94-95) یعنی جس چیز کا تم کو حکم دیاگیا ہے، اُس کو تم واضح طور پر لوگوں کو سنادو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔قرآن کی یہ آیت پیغمبر کے واسطے سے ہر اُس شخص کو خطاب کررہی ہے جو پیغمبر کے طریقے پر دعوت الی اللہ کا کام کرے۔ خدا نے نصرت کا جو خصوصی وعدہ اِس آیت میں پیغمبر سے کیا ہے، وہی وعدہ یکساں طورپر ہر داعی کے لیے بھی ہے۔ جو داعی بھی قرآن میں بتائی ہوئی شرطوں کو پورا کرے گا، وہ اِس وعدۂ الٰہی کا مستحق بن جائے گا، استہزا (mockery) کرنے والوں کا استہزا کچھ بھی اس کے دعوتی مشن کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
قرآن میں بتائی ہوئی یہ شرطیں دو ہیں —ایک، کسی کمی یا بیشی کے بغیر پیغمبرانہ دعوت پر کھڑا ہونا۔ دوسرے، مخالفین کی منفی باتوں سے مکمل طورپر اعراض کرنا۔ داعی اگر یہ دوشرطیں پوری کردے تو بلاشبہہ وہ مذکورہ نصرتِ الٰہی کا مستحق بن جائے گا۔
نصرت کا یہ معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب حق کو اُس کی خالص صورت میں پیش کیا جائے تو لوگوں کو وہ اُن کی فطرت کے عین مطابق نظر آتا ہے۔ لوگوں کا خوداپنا دل گواہی دینے لگتا ہے کہ یہ بلاشبہہ سچائی ہے۔ ایسی حالت میں، داعی اگر مخالفین سے نہ الجھے تو گویا کہ وہ مخاطَبین کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کی آواز کو کسی رکاوٹ کے بغیر سنتے رہیں۔ اِس طرح یہ ہوتا ہے کہ داعی جو جواب لوگوں کو دینا چاہتا ہے، وہ زیادہ بہتر طورپر مخاطبین کی خود اپنی فطرت کی طرف سے اُن کو مل جاتا ہے۔ یہی مطلب ہے اِس کا کہ —اگر تم اعراض کرو تو اللہ تمھاری طرف سے استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہوجائے گا۔ یہ داعی کے لیے اُس کے مشن کے سلسلے میں ایک ایسی یقین دہانی (assurance) ہے جس سے بڑی یقین دہانی بلاشبہہ اور کوئی نہیں ہوسکتی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔