قرآن کی سورہ الاعراف میں ارشاد ہوا ہے: وإن یروا سبیلَ الرُّشدِ لا یتخذوہ سبیلاً، وإن یروا سبیل الغیِّ یتخذوہ سبیلاً (7:146) یعنی اُن کا حال یہ ہے کہ اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیںتو وہ اُس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گم راہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے۔
اِس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اہلِ کتاب گروہ کی حالتِ زوال سے ہے۔ جب کوئی قوم یا امت اِس حال کو پہنچتی ہے تو اس کے اندر زوال یافتہ نفسیات پیدا ہوجاتی ہے۔ اُس کا ذہن وہی بن جاتا ہے جس کا ذکر مذکورہ آیت میں کیاگیا۔
ایسی قوم غیر حقیقت پسندانہ افکار وخیالات میں جینے لگتی ہے۔ اس بنا پر ایسے لوگ اس کے درمیان مقبول ہوجاتے ہیں جو ہائی پروفائل(high profile) میں بولتے ہوں، لو پروفائل (low profile) میں بولنے والا آدمی ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ خود احتسابی (introspection) کو پسند نہیں کرتے، البتہ دوسروں کے خلاف بولنا ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ پر امن کام ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔ اِ س کے برعکس، تشدد اور ٹکراؤ کی باتیں ان کو بہت اپیل کرتی ہیں۔ دوسروں کا خیر خواہ ہونااُن کے لیے اجنبی بن جاتا ہے۔ وہ اُن لوگوں کی باتوں کو بہت شوق سے سنتے ہیں جو انھیں دوسروں کے ظلم اور سازش کی کہانیاں سنائیں۔ ان کو عمل اور جدوجہد سے رغبت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ مطالباتی نعروں کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں، وغیرہ۔
یہ سب زوال یافتہ نفسیات کے مظاہر ہیں۔ جو قوم بھی زوال کی حالت کو پہنچ جائے، اس کا انجام یہی ہوگا، خواہ وہ یہود ہوں یا مسلمان۔ زوال یافتہ نفسیات لوگوں کے اندر بے عملی اور جذباتیت کا مزاج پیدا کردیتی ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو رُشد (ہدایت) کی بات اپیل نہیں کرتی، البتہ غیّ (گمراہی) کی بات کی طرف وہ تیزی سے دوڑتے ہیں۔ ایسے لوگ کبھی خدا کی رحمتوں میں حصہ پانے والے نہیں۔ ایسی قوم کی اصلاح کا آغاز صرف یہ ہے کہ اس کے اندر اپنی حالت پر نظر ثانی کا مزاج پیدا کیا جائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔