قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: لئن شکرتم لأزیدنکم (14: 7) یعنی اگر تم دنیا میں اللہ کے عطیات پر شکر کروگے تو تم کو آخرت میں خدا کے عطیات دئے جائیں گے۔
حقیقی شکر سب سے بڑا عمل ہے۔ شکر تمام عبادات کا خلاصہ ہے۔ جو آدمی دنیا کی زندگی میں حقیقی معنوں میں شکر گزاری کا ثبوت دے، وہ آخرت میں دوبارہ خدا کی نعمتوں سے سرفراز کیاجائے گا۔ حقیقی شکر کسی آدمی کو جنت کا مستحق بناتا ہے۔ جنت میں صرف اعلیٰ روحیں داخل کی جائیں گی، اور اعلیٰ روح وہ ہے جو حمد اور شکر کی کیفیات سے بنی ہو۔ اِس اعلیٰ روح کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت والے جب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے تو وہ کہیں گے: الحمد للہ الذی أذہب عنا الحزَن(35: 34) یعنی اللہ کا شکر ہے جس نے حزن کو ہم سے دو رکردیا۔
دنیا کی زندگی میں ہر آدمی کا ایک لمحۂ حزن یا زمانۂ حزَن ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ وقت آتا ہے جب کہ وہ اس حزن (sorrow)سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ جو آدمی اپنے اِس زمانہ حزن کو اور پھر زمانہ فرحت کو دریافت کرے اور پھر وہ یہ کہہ اٹھے کہ خدایا، تونے دنیا میں میرے حزن کو دور کردیا، اِسی طرح تو آخرت میں میرے حزن کو دور کردے۔ جوآدمی سچے احساس کے ساتھ یہ بات کہے تو یہ بات اس کے لیے ان شاء اللہ جنت میں داخلے کا ٹکٹ بن جائے گی۔ دنیا کی نعمتوں کا اعتراف اس کو آخرت کی نعمتوں کا مستحق بنادے گا۔
اِس قسم کا قول کوئی سادہ قول نہیں۔ اِس کے لیے گہری شعوری بیداری درکار ہے۔ جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شعوری بیداری پیدا کرے، اُسی کے دل سے اِس قسم کے کلمات نکلتے ہیں جو اس کے لیے جنت میں داخلے کا استحقاق بن جائیں۔ گہری شعوری بیداری کے بغیر کسی شخص کو یہ توفیق ملنے والی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔