قرآن کی سورہ البقرہ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والے، اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں (2: 165)۔ اِس آیت میں محبت ِ الٰہی سے کیا مراد ہے۔ صوفیا اس کو عشقِ الٰہی کے معنی میں لیتے ہیں۔ علماء کا عام طور پر ماننا یہ ہے کہ محبتِ الٰہی سے مراد اطاعتِ الٰہی ہے۔ مگر اِن دونوں تفسیروں میں محبت کا اصل مفہوم نہیں آتا۔ محبت دراصل کسی کے ساتھ نہایت گہرے قلبی میلان کا نام ہے، یعنی :
Strong affection, deep emotional attachment.
اللہ کے ساتھ یہ گہرا قلبی میلان اُس انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے جو اللہ کے اعلیٰ انعامات کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا جب کہ اس کا کوئی وجود نہ تھا (19: 9)۔ اللہ نے انسان کو بہترین صورت عطا فرمائی(40: 64) ، اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا (خلق اللہ آدم علی صورتہ)۔ انسان کو اللہ نے رہنے کے لیے زمین دی، جہاں استثنائی طورپر اس کی ضرورت کی تمام چیزیں موجود تھیں، انسان کے لیے اللہ نے جنت کی صورت میں ایک معیاری دنیا (perfect world) بنائی، انسان کے لیے اللہ تعالی ٰ نے ایک معیاری جنت بنائی، جہاں اس کو پورا فل فلمینٹ حاصل ہو۔ اللہ نے انسان کو عقل دی جو حدیث کے مطابق، تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ اکرم واشرف چیز ہے (ما خلق اللہ خلقاً أکرم علیہ من العقل)، اللہ نے انسانوں کے اندر استثنائی طورپر مودَّت پیدا کی جس کی وجہ سے خاندان اور سماج جیسی چیز وجود میں آتی ہے (30: 21) ۔ اِن سب پر مزید یہ کہ اللہ نے انسان کو استثنائی طور پر شعور دیا جس سے وہ انعامات ِ الٰہی کو جانے۔اللہ نے استثنائی طورپر انسان کو احساسِ لذت (sense of pleasure) دیا، جس سے وہ انعامات سے پوری طرح محظوظ ہوسکے۔
اِس طرح کے بے شمار انعامات ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا کیے ہیں۔ جب آدمی اِن بے شمار انعاماتِ الٰہی کو سوچتا ہے تو ا س کے اندر وہی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کو قرآن میں حبِّ شدید (2: 165) کے الفاظ میں بیان کیاگیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔