Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala June 2020
Al-Risala June 2020

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

Urdu · 4 min read

محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے۔ وہ 570 عیسوی میں قدیم مکہ میں پیداہوئے۔ 610 عیسوی میں اُن کو خدا کی طرف سے پہلی وحی ملی۔ اِس کے بعد انھوںنے مکہ میں اپنا مشن شروع کردیا۔ وہ 13 سال مکہ میں رہے۔ اس کے بعد 622 عیسوی میں وہ عرب کے دوسرے شہر مدینہ چلے گئے۔ وہاں انھوں نے اپنے مشن کو مزید 10 سال تک جاری رکھا۔ 632 عیسوی میں اُن کی وفات ہو ئی۔ ان کی قبر مدینہ میںاب بھی موجود ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اصل مشن توحید تھا، یعنی خدا کو ایک ماننا، اورایک ہی خدا کی عبادت کرنا۔ جب پیغمبر ِ اسلام نے لوگوں کو توحید کا یہ پیغام دینا شروع کیا، اُس وقت مکہ کی مسجد کعبہ میں 360 بُت موجود تھے، لیکن آپ نےبتوں کی موجودگی کے مسئلے سے اعراض کیا، اوربتوں کی زیارت کے لیے آنے والوں کے درمیان اپنا مشن جاری رکھا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر شروع میں خدا کی طرف سے جو تعلیمات اُتریں، اُن میں سے ایک تعلیم یہ تھی کہ نزاعی مسئلوں پر صبر کرتے ہوئے پُرامن انداز میں اپنا پیغام لوگوں کو پہنچاتے رہو(المدثر، 74:7)۔ آپ نے اِسی اصول پر عمل کیا۔ آپ کی کوشش کا نشانہ انسان کی سوچ کو بدلنا تھا۔ کیوںکہ انسان کی سوچ اگر بدل جائے تو اس کی پوری زندگی بدل جاتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام کی زندگی اور اُن کی تمام تعلیمات اور واقعات آج بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔ کوئی بھی شخص اُن کا مطالعہ کرکے خالص تاریخی معیار پر آپ کی شخصیت اور آپ کی تعلیمات کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ آپ کی حیثیت پورے معنوں میں ایک تاریخی پیغمبر کی ہے۔

پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ خود آپ کے الفاظ میں اِس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— خدا سے ڈرنا، اور اچھے اخلاق کے ساتھ دنیا میں رہنا (تَقْوَى اللَّہِ وَحُسْنُ الخُلُقِ) جامع الترمذی، حدیث نمبر 2004۔ خدا سے ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خدا کے سامنے جواب دہ (accountable) سمجھے۔ وہ خدا کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کی پوری زندگی خدا رخی زندگی (God-oriented life) بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اچھے اخلاق کے بارے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دو معیار دیے ہیں۔ اچھے اخلاق کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ انسان ، سماج کے اندر اِس طرح رہے کہ اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ وہ سماج کا ایک دینے والا ممبر(giver member) بن جائے۔ اچھے اخلاق کا کم سے کم معیار یہ ہے کہ آدمی اپنے سماج میں بے مسئلہ انسان(no-problem person) بن کر رہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر 2518)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: تم لوگ اِمَّعہ نہ بنو، یعنی یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے، اور لوگ بُرا سلوک کریں گے، تو ہم بھی اُن کے ساتھ ظلم کریں گے۔ اس کے برعکس تم اپنے اندر یہ مزاج پیدا کرو کہ لوگ اچھا سلوک کریں، تب بھی تم اچھا سلوک کرو، اور لوگ بُرا سلوک کریں، تو تم اُن کے ساتھ ظلم نہ کرو(إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا)جامع الترمذی، حدیث نمبر 2007۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس اصول کا تعلق صرف انفرادی کردار سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق اجتماعی کردار سے بھی ہے۔ یہی اصول ایک خاندان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ یہی اصول ایک سماج کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہی اصول ایک قوم کو اپنی قومی پالیسی کے لیے بھی رہ نمااصول کی حیثیت سے اپنانا ہے۔

قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ماڈل کی حیثیت دی گئی ہے (الأحزاب، 33:21)۔ یہ بات ہر اعتبار سے درست ہے، اور وہ سارے انسانوں کے لیے ہے۔ تمام انسانوں کی یہ ایک ضرورت ہے کہ ان کے پاس سچائی کے لیے ایک عملی ماڈل ہو۔ پیغمبر اسلام کی زندگی اِس اعتبار سے ایک تاریخی ماڈل کی حیثیت ر کھتی ہے۔ جوآدمی بھی یہ چاہتاہو کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کے پسندیدہ طریقِ حیات کو اختیار کرے، اُس کو چاہیے کہ وہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا مطالعہ کرے۔ وہ آپ کی زندگی سے خدا کے پسندیدہ نمونے کو جانے اور اپنی پوری زندگی میںاس کی پیروی کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content