← Al-Risala June 2020Al-Risala June 2020
دین ِاسلام
Urdu · 4 min read
اسلام عربی زبان کا ایک لفظ ہے۔ اُس کا لفظی مطلب سرینڈر کرنا(to surrender) ہے۔ اِس سے اسلام کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ انسان اِس دنیا میں اپنے اختیار سے خدا کی اطاعت کرنے والا بن کر رہے، وہ اپنے آپ کو خدا کے حکموں کا تابع بنالے۔
انسان کو اِس دنیا میں پوری آزادی ملی ہوئی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے، اور جو چاہے نہ کرے۔ یہ آزادی جو انسان کو ملی ہے، وہ کسی حق یا انعام کے طورپر نہیں ملی ہے، بلکہ وہ صرف امتحان کے لیے ہے۔ اِس دنیا میں انسان کے لیے صرف ایک ہی انتخاب(choice) ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی آزادی کو خدائی احکام کے دائرے میں استعمال کرے۔
اسلام کے مطابق، انسان کی زندگی دو مرحلوں میںتقسیم ہے— موت سے پہلے کا مرحلہ، اور موت کے بعد کا مرحلہ۔ موت سے پہلے کا مرحلہ عارضی ہے، اورموت کے بعد کامرحلہ مستقل۔ زندگی کے موجودہ مرحلے میں انسان جس طرح عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، اگلے دورِ حیات میں وہ اس کا صلہ پائے گا۔ اچھا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دورِ حیات میں انعام ہے، اور بُرا عمل کرنے والوں کے لیے اگلے دورِ حیات میں سزا۔
اسلام کی ایک لمبی تاریخ ہے جو اس کے آغاز کے بعد بنی۔ لیکن اسلام کیا ہے، اس کو جاننے کا ماخذ تاریخ نہیں ہے، بلکہ اسلام کا اسکرپچر (scripture) ہے، یعنی قرآن، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات۔ جس آدمی کو جاننا ہو کہ اسلامی مذہب کیا ہے، اس کو براہِ راست قرآن اور حدیثِ رسول کو دیکھنا چاہیے۔ اِس کے بغیر وہ اسلام پر صحیح رائے قائم نہیں کرسکتا۔
اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے۔ تمام انسان یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگوں کی نجات کا فیصلہ اِس پر نہیں کیا جائے گا کہ وہ پیدائشی طورپر کس نسل سے تعلق رکھتا ہے، بلکہ اِس پر کیا جائے گا کہ اسلام کے بتائے ہوئے اصولی معیار پر کون شخص پورا اترا، اور کون شخص پورا نہیں اترا۔
اسلام کا مذہب خدا کے تصور پر قائم ہے۔ اسلام میں خدا مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ تمام دوسری چیزیں خدا کے عقیدے سے براہِ راست یا بالواسطہ طورپر جُڑی ہوئی ہیں۔ اسلامی عقیدے کی بنیاد خدا کے تصور پر ہے۔ بقیہ تمام چیزیں خدا کے تصور کا حصہ ہیں، نہ کہ اس سے الگ یا مستقل حصہ۔
اسلام میں خدا کا تصور وحدتِ وجود (monism) کے تصورپر مبنی نہیں ہے، بلکہ وہ توحید (monotheism) کے تصور پر مبنی ہے۔ وحدتِ وجود کے تصور میں تمام چیزیں خدا کا حصہ ہیں، مگر توحید کے تصور میں ایسا نہیں ہے۔ توحید کے تصور میں، خدا خالق ہے، اور بقیہ تمام دوسری چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق ہیں۔ خدا اپنی ذات میں ایک علاحدہ اور مستقل وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ خدا تمام چیزوں کا نہ صرف خالق ہے، بلکہ وہ ان کا رب اور مالک بھی ہے۔
اسلام کے تصور کے مطابق، انسان اور خدا کے درمیان تعلق قائم کرنے کے لیے کسی تیسرے وسیلے کی ضرورت نہیں۔ہر انسان براہِ راست طورپر خدا سے تعلق قائم کرسکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کو دریافت کرسکتا ہے۔ ہر انسان اپنی انفرادی حیثیت میں خدا کا عبادت گزار بن سکتا ہے۔ ہر انسان اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ براہِ راست طورپر خدا سے تعلق قائم کرسکے۔
اسلام کی حیثیت ایک کلچر یا ٹریڈیشن (tradition) کی نہیں ہے۔ اسلام کسی سماج کا ظاہرہ بھی نہیں ہے، بلکہ اسلام ایک الہامی مذہب (revealed religion) ہے۔ وہ خدا کی طرف سے تمام انسانوں کے لیے ایک ہدایت نامہ ہے۔ اسلام اُسی طرح ہر انسان کی ضرورت ہے، جس طرح سورج کی روشنی ہر انسان کی ایک ضرورت ہے۔ اسلام کسی کمیونٹی کا کلچر نہیں، اسلام ہر انسان کی تلاشِ حق کا جواب ہے۔
اسلام کے مطابق، سچّا مسلم وہ ہے جو اپنے دل اور اپنے دماغ کی تبدیلی کے ذریعے مسلم بنے۔ اِس لیے اسلام میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ اسلام از اوّل تا آخر امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اپنے مقصد کو پُر امن طریقِ کار کے ذریعے حاصل کرو، اور اگر امن کا طریقہ حصولِ مقصد میں موثر نہ ہو، تو صبر کرتے ہوئے اپنی ذاتی ذمّے داریوں کو ادا کرتے رہو۔