روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔
تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے، جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔
قرآن میں اس موضوع پر جو آیتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کو مانتا ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور اسلام میں موجود نہیں۔قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہٰی۔ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سمع اور بصر، وغیرہ۔ یہ ایک واحد حقیقت کو بتانے کے لیے مختلف الفاظ ہیں۔
یہ جوبتایا جاتا ہے کہ عقل سوچ کا مرکز ہے، اور قلب جذبات کا مرکز ۔یہ درست تصور نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ اور فکر کے تمام پہلوؤں کا مرکز ایک ہی ہے، اور وہ عقل ہے۔ قلب (heart) کا فنکشن صرف ایک ہے، اور وہ ہے انسان کے جسم میں تیار شدہ خون کو رگوں کے ذریعے جسم کے تمام حصوں میں پہنچانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قلب (heart) کو تھنکنگ ہارٹ (thinking heart) سمجھنا، ایک بے خبری کا کیس ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔