Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2020
Al-Risala June 2020

اسلامی روحانیت

Urdu · 2 min read

روحانیت ایک ادبی زبان کا لفظ ہے۔ قرآن و حدیث میں یہ لفظ مذکور نہیں۔ روحانیت اگرچہ اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے۔ لیکن یہ قرآن و حدیث کی اصطلاح نہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانیت اگر چہ باعتبار لفظ قرآن میں نہیں ہے، لیکن باعتبار معنی وہ قرآن میں موجود ہے۔ یہ قرآنی لفظ الربانیہ (آل عمران،3:79) ہے ، یعنی رب رخی زندگی (God-oriented life)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم اسلامی روحانیت مبنی بر قلب روحانیت کا نام نہیں ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت ایک متصوفانہ اصطلاح ہے۔ اسلامی روحانیت در اصل مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کا دوسرا نام ہے۔ مائنڈ بیسڈ اسپریچوالٹی کیا ہے۔ یہ صحتِ فکر یا مثبت تھنکنگ کا عمل ہے۔ یہ دراصل صحتِ فکر ہی ہے، جو انسان کو حیوان سے ممیز کرتی ہے۔

قرآن میں اس موضوع پر جو آیتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مبنی بر ذہن روحانیت (mind-based spirituality) کو مانتا ہے۔ مبنی بر قلب روحانیت (heart-based spirituality) کا تصور اسلام میں موجود نہیں۔قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہٰی۔ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً سمع اور بصر، وغیرہ۔ یہ ایک واحد حقیقت کو بتانے کے لیے مختلف الفاظ ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ جوبتایا جاتا ہے کہ عقل سوچ کا مرکز ہے، اور قلب جذبات کا مرکز ۔یہ درست تصور نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ اور فکر کے تمام پہلوؤں کا مرکز ایک ہی ہے، اور وہ عقل ہے۔ قلب (heart) کا فنکشن صرف ایک ہے، اور وہ ہے انسان کے جسم میں تیار شدہ خون کو رگوں کے ذریعے جسم کے تمام حصوں میں پہنچانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قلب (heart) کو تھنکنگ ہارٹ (thinking heart) سمجھنا، ایک بے خبری کا کیس ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content