Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala June 2015
Al-Risala June 2015

قرآن کی حفاظت

Urdu · 4 min read

قرآن کی کچھ آیتیں وہ ہیں جن کو احکام کی آیتیں کہاجاتا ہے- قرآن کی آیتوں کا دوسرا حصہ وہ ہے، جن کو حکمت (wisdom)کی آیات کہنا درست ہوگا- یہ حکمت کسی پر اسرار چیز کا نام نہیں ہے- اس سے مراد فطری حکمت (natural wisdom) ہے، یعنی حکمت کے وہ اصول جن پر دنیا کا نظام قائم ہے، اور جن کی پیروی کرکے کوئی انسان، اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر کرسکتا ہے-

قرآن واحد محفوظ الہامی کتاب ہے- اس حقیقت کا اظہار قرآن میں پیشگی طورپر ان الفاظ میں کیا گیا تھا: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (15:9) یعنی یہ یاد دہانی (کتاب) ہم نے اتاری ہے، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی حفاظت کا یہ کام ثابت شدہ تاریخ کے مطابق چار ادوار (periods) میں انجام پایا- پہلے دور میں یہ کام زیادہ تر حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوا- دوسرے دور میں حفاظت ِ قرآن کا یہ کام تحریر (writing) کے ذریعہ انجام پایا- لوگوں نے بڑی تعداد میں یہ کیا کہ حفظ قرآن کے ساتھ وہ جزئی یا کلی طورپر قرآن لکھتے رہے- کتابت کا یہ کام قدیم زمانے کی دستیاب چیزوں پر ہوتا رہا جن میں قدیم طرز کا کاغذ (قرطاس) بھی شامل ہے- اس کے بعد پرنٹنگ پریس کا زمانہ آیا-

انیسویں صدی عیسوی میں پرنٹنگ پریس ساری دنیا میں عام ہوگیا- اس کے بعد قرآن مطابع میں چھاپا جانے لگا- اس کے مجلد نسخے بڑی تعداد میں تیار کیے گئے- یہ مطبوعہ نسخے ہر جگہ پھیل گئے- اس کے بعد ٹکنالوجی کا زمانہ آیا، اور اب انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون پر پورا قرآن، تحریر اور آواز دونوں صورتوں میں محفوظ ہوچکا ہے-

ساتویں صدی عیسوی میں جب قرآن اترا، اس وقت پورے ملک عرب کی زبان عربی تھی- لیکن دوسری زبانوں کی طرح عربی زبان کا بھی یہ حال تھا کہ مختلف علاقوں کے عرب قبیلے مختلف لہجے میں عربی بولتے تھے- اس بنا پر ایسا ہوا کہ اسلام جب پورے عرب میں پھیل گیا تو ہرایک کا قرآن باعتبار متن ایک ہی قرآن تھا، لیکن قرآن کو پڑھنے کا لہجہ سب کا ایک نہ تھا- اس وقت لوگوں کی سہولت کے لیے یہ کہا گیا کہ قرآن سات لہجوں میں اترا ہے- اس کا مطلب یہ نہیں کہ باعتبار نزول قرآن کے سات لہجے تھے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اپنے لہجے کے اعتبار سے قرآن کے پڑھنے کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں، یہ ایک عملی بات تھی نہ کہ کوئی نظری بات-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کے متن (text)کی حفاظت کے لیے صحابہ نے آخری انتہائی طریقہ اختیار کیا- مثلاً خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے حکم سے زید بن ثابت انصاری نے قرآن کو کاغذ پر لکھ کر اس کا مصحف تیار کیا جس کو رَبعہ کہاجاتا تھا- یہ کام انھوں نے ڈبل چیکنگ سسٹم (double checking system) کے اصول پر کیا، یعنی لکھے ہوئے کو حفظ سے چیک کرنا، اور حفظ کو لکھے ہوئے سے چیک کرنا- اس طرح جو کاغذی نسخہ (ربعہ) تیار ہوا اس کو خلیفہ اول کے حکم سے رسول اللہ کی زوجہ حفصہ کے گھر پر رکھ دیا گیا-

ایک مصحف (رَبعہ) کی صورت میں لکھے جانے سے پہلے لوگوں کے پاس قرآن کے اجزا مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے موجود تھے- مستند مصحف تیار ہونے کے بعد خلیفہ اول کے حکم سے اور تمام صحابہ کی رائے سے یہ کیاگیا کہ ان تمام مختلف اجزا کو جلا دیاگیا-حرق مصحف کا یہی واقعہ دوسری بار خلیفہ ثالث حضرت عثمان کے زمانہ میں پیش آیا- اس مدت میں لوگوں نے بطور خود جزئی یا کلی طورپر مصاحف لکھ لیے تھے-

ان مصاحف میں ان کے قبائل کی قرأت کا اسلوب شامل ہوگیا تھا- حضرت عثمان نے یہ کیا کہ زید بن ثابت انصاری کی قیادت میں صحابہ کی ایک کمیٹی بنائی- پھر انھوں نے حضرت حفصہ کے پاس جومصحف صدیقی محفوظ تھا اس کو منگوایا، اور صحابہ سے کہا کہ اس کی نقلیں تیار کرو- اس طرح مصحف صدیقی کی سات نقلیں تیار کی گئیں- پھر خلیفہ کے حکم سے ان نقلوں کو مدینہ اور دوسرے شہروں کی مسجدوں میں رکھوا دیا گیا- اس کے بعد حضرت عثمان نے مزید اہتمام یہ کیا کہ لوگوں نے بطور خود قرآن کے جو تحریری نسخے تیار کیے ـتھے، ان کو جمع کروایا اور پھر صحابہ کے اتفاق رائے سے ان تمام مصاحف کو جلا دیاگیا- یہ کام بہت جرأت کا طالب تھا-

لیکن حضرت عثمان نے صحابہ کی رائے سے یہ جرأت مندانہ اقدام کیا- بعد کو جب خلیفہ ثالث کے خلاف کچھ شورش پسندوں نے ہنگامہ کیا، یہاں تک کہ ان کو قتل کردیاگیا، اس وقت شورش پسندوں نے خلیفہ ثالث کو بدنام کرنے کے لیے جو باتیں کہی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ انھوں نے خلیفہ ثالث کو حرّاق المصاحف قرار دیا تھا، یعنی قرآن کو جلانے والا- (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، خطبة الکتاب، ص: 54)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی تاریخ اور اس کی تدوین پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں- یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ قرآن اگر چہ قدیم زمانہ میں اترا، لیکن اس کی حفاظت کے لیے تمام ممکن اقدام کیا گیا، حتی کہ سیکولر محققین نے بھی کھلے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content