ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- سنن ابی داؤدکے الفاظ یہ ہیں: إنَّ أوَّلَ ما دخلَ النَّقصُ علَى بَنی إسرائیلَ کانَ الرَّجلُ یَلقى الرَّجلَ فیقولُ یا ہذا اتَّقِ اللَّہَ ودَع ما تصنَعُ فإنَّہُ لا یحلُّ لَکَ ثمَّ یَلقاہُ منَ الغَدِ فلا یمنعُہُ ذلِکَ أن یَکونَ أکیلَہُ وشریبَہُ وقعیدَہُ فلمَّا فعلوا ذلِکَ ضربَ اللَّہُ قلوبَ بعضِہِم ببعضٍ ثمَّ قالَ لُعِنَ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ بَنِی إِسْرَائِیلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِیسَى ابْنِ مَرْیَمَ إلى قولِہِ فَاسِقُونَ ثمَّ قالَ کلَّا واللَّہِ لتأمُرُنَّ بالمعروفِ ولتَنہَوُنَّ عنِ المنکَرِ ولتأخُذُنَّ علَى یدَیِ الظَّالمِ ولتَأطرُنَّہُ علَى الحقِّ أطرًا ولتقصرُنَّہُ علَى الحقِّ قصرًا(ابو داؤد: 4336)
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کے اندر جو پہلا نقص آیا، وہ یہ تھا کہ ان کا ایک شخص اپنی قوم کے دوسرے شخص سے ملتا اور اُس سے کہتا کہ اے شخص، خدا سے ڈر اور جو کچھ تم کررہے ہو، اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ ایسا کرنا تمھارے لیے جائز نہیں- پھر وہ اگلے دن اُس شخص سے ملتا(اور وہ دیکھتا کہ وہ اپنی روش سے باز نہیں آیا ہے)- مگر یہ چیز اُس کو اِس سے نہ روکتی کہ وہ اس کے ساتھ کھانے اور پینے اور بیٹھنے میں اس کا شریک بنے- جب انھوں نے ایسا کیا تو اللہ نے ایک کے دل کو دوسرے کے دل جیسا کردیا- پھر آپ نے سورہ المائدة (سورہ نمبر 5)کی آیت78 تا 81 پڑھی-پھر آپ نے فرمایا: خدا کی قسم، تم ضرور لوگوں کو معروف کا حکم دوگے، اور تم ضرور لوگوں کو منکر سے روکو گے، اور تم ضرور ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور تم اس کو ضرور حق کی طرف موڑ دوگے-
یہ حدیث اصلاً یہود کی شکایت کے طورپر نہیں ہے، بلکہ وہ امت مسلمہ کی نصیحت کے طورپر ہے- اس حدیث میں امتوں کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بتایا گیاہے، اور وہ یہ کہ جب امت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے تو ان کا کیا حال ہوتاہے- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی زوال کے ظاہرے کی نشاندہی فرمائی ہے، اور امت کے رہنماؤں کو بتایا ہے کہ اس وقت انھیں کیا کرنا چاہئے- غور کیجئے تو یہ حدیث مسلمانوں کے آج کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔