قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے جب کعبہ کی تعمیر کی تو اللہ تعالی نے یہ حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کردو، وہ تمھارے پاس آئیں گے پیروں پر چل کر اور دبلے اونٹوں پر سوار ہو کر جو کہ دور دراز راستوں سے آئیںگے ( 22:27) اس سلسلے میں ایک روایت آئی ہے- اس کے مطابق حضرت ابراہیم نے کہا کہ یا رب کیف أبلّغ الناس وصوتی لا ینفذہم فقال نادِ وعلینا البلاغ (تفسیر ابن کثیر: 3/216) یعنی اے میرے رب، میں اپنی آواز لوگوں تک کیسے پہنچاؤں گا، اور میری آواز ان تک پہنچنے والی نہیں ہے- اللہ نے فرمایا کہ تم پکارو، پہنچانا ہمارے ذمہ ہے-
کعبہ کی تعمیر مکمل کرنے کے بعد حضرت ابراہیم نے آواز دی- لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ان کی آواز باہر کے لوگوں تک نہیں پہنچی- پھر اس کا مطلب کیا ہے-یہ بات حال کی خبر کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ مستقبل کے امکان کے معنی میں ہے-اس روایت میں دراصل اللہ کے ایک منصوبے (divine plan)کو بتایا گیا ہے- وہ یہ کہ حضرت ابراہیم اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انسانی تاریخ میں ایک عمل (process)جاری ہوگا- اس عمل کی تکمیل پر یہ واقعہ ہوگا کہ اللہ کا ایک بندہ مکہ میں یا کسی دوسرے مقام پر اللہ کی بات کہے گا اور اس کی بات بطور واقعہ ہر جگہ پہنچ جائے گی- یہ دور تاریخ میں آیا- اسی دور کو ابلاغ کا دور (age of communication) کہاجاتاہے- حضرت ابراہیم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ تعالی کی خصوصی مدد سے، ایسے حالات پیداہوئے جن کے نتیجے میں انسان نے نئی نئی دریافتیں کیں اور آخر کار وہ دور وجود میں آگیا جس کو کمیونیکیشن کا دور کہا جاتا ہے- حضرت ابراہیم کے زمانے میں صرف یہ ممکن ہوتا تھاکہ انسان اپنی زبان سے بولے اور اس کے قریب میں جو لوگ ہیں، اس کی آواز کو سنیں، لیکن اب ٹیکنالوجی کے ذریعہ یہ ممکن ہوگیا ہے کہ انسان ایک مقام پر بولے اور عین اسی وقت پورے گلوب پر بسے ہوئے لوگ اس کی آواز بھی سنیں اور اس کی تصویر بھی دیکھیں- یہ نیا دور اللہ کی توفیق سے وجود میں آیا اور اس کا اصل تقاضا یہ ہے کہ اس کو خدائی مشن کے لیے استعمال کیا جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔