Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala June 2015
Al-Risala June 2015

قرآن کتاب ِتدبر

Urdu · 4 min read

قرآن کی سورہ ص کی ایک آیت یہ ہے: کِتَٰبٌ أَنزَلْنَٰہُ إِلَیْکَ مُبَٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوٓا۟ ءَایَٰتِہِۦ وَلِیَتَذَکَّرَ أُولُوا ٱلْأَلْبَٰبِ.(38:29) یعنی یہ ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، تاکہ لوگ اِس کی آیتوں پر غور کریں اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی باتوں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے، جو قرآن کا مطالعہ تدبر کے ساتھ کرے- صرف لفظی تلاوت کے ذریعہ قرآن کا حق ادا نہیں ہوسکتا- مزید یہ کہ تدبر کے لیے تیارذہن (prepared mind) درکار ہے-

جو شخص قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے- اس کے بعد ہی وہ قرآن کو حقیقی طورپر سمجھ سکے گا- اپنے آپ کو تیار ذہن بنانے کے لیے جو شرطیں درکار ہیں، ان میں سے ایک ضروری شرط تقویٰ( 2:282) ہے- متقی انسان ایک سنجیدہ (sincere) انسان ہوتا ہے-سنجیدگی کے بغیر کوئی شخص قرآن کو سمجھ نہیں سکتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں عقل کے مترادف کم سے کم چھ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں— عقل، فؤاد، لب، قلب، حجر، نُہیٰ- ان کے سوا قرآن میں اور بہت سے الفاظ ہیں، جو بالواسطہ طورپر عقل سے تعلق رکھتے ہیں- مثلاً سمع اور بصر وغیرہ- حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی تمام آیتیں عقل پر مبنی ہیں،کچھ آیتیں براہِ راست طورپر اور کچھ آیتیں بالواسطہ طورپر-

مثلاً إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ ( 13:19) اور إِنَّ فِى ذَٰلِکَ لَآیَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّہَىٰ. (20:54)جیسی آیتوں میں براہِ راست طورپر عقل کا حوالہ دیا گیا ہے- اس طرح کی آیتیں قرآن میں کثرت سے ہیں- اس کا مطلب واضح طور پر یہ ہے کہ اگر تم قرآن کو یا قرآن کے پیغام سمجھنا چاہتے ہو تو اپنی عقل (reason) کو استعمال کرو- عقل کے استعمال کے بغیر تم قرآنی آیتوں کے حقیقی مفہوم تک نہیں پہنچ سکتے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جہاں تک عقل کے بالواسطہ حوالے کی بات ہے، اس سے پورا قرآن بھرا ہوا ہے- مثلاً قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (1:1)- اس آیت میں کہاگیا ہے کہ اس اللہ کی حمد کرو جو سارے عالم کا رب (Lord) ہے- اس سے واضح ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حقیقی حمد، اسی وقت کرسکتا ہے، جب کہ اس نے اللہ کو رب العالمین کی حیثیت سے دریافت کیا ہو- اس قسم کی دریافت کسی آدمی کو صرف عقل کے استعمال کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح قرآن کی آخری سورہ یہ ہے کہ انسان اور جن کے وسوسہ کے شر سے اپنے آپ کو بچاؤ (الناس)- یہاں ظاہر ہے کہ وسوسہ ایک غیر محسوس چیز ہے- وسوسہ کو چھوکر یا دیکھ کرنہیں جانا جاسکتا، وسوسہ کے شر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے عقل کو استعمال کرکے وسوسہ کو دریافت کرے- اِس طرح قرآن کی یہ آیت عقل کے بالواسطہ حوالے کی ایک مثال ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ قرآن کی تمام آیتوں کا ہے- مثلاً قرآن میں مومن کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں (2:3)- غیب پر ایمان صرف اس شخص کو حاصل ہوسکتا ہے، جو غیبی حقیقتوں کو یقین کے درجے میں دریافت کرے، اور یہ بات صرف عقلی غوروفکر کے ذریعہ ممکن ہے- اسی طرح، مثلاً قرآن میںحج کے حکم کے ذیل میں یہ الفاظ آئے ہیں: فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( 2:197)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حج تو ایک عبادت کا فعل ہے، اس کا جدال سے کیا تعلق- اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حج کی عبادت کے دوران بہت سے لوگ ایک ساتھ رہتے ہیں- ساتھ رہنے کی بنا پر فطری طورپر آپس میں اختلافات(differences) پیدا ہوتے ہیں- اس لیے حاجی کو چاہئے کہ وہ اختلاف پر صبر کرے، وہ اس کو جدال تک پہنچنے نہ دے- آیت کا یہ پہلو بھی عقل کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے-

اسی طرح قرآن کی ایک سورہ میں معاہدۂ حدیبیہ کا صراحتاً ذکر کیے بغیر یہ آیت آئی ہے: إنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِیْنًا ( 48:1)- یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاہدہ حدیبیہ میں تو فریقِ ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر کے رسول اور اصحاب رسول مدینہ واپس آگئے تھے، پھر اس کا فتح مبین سے کیا تعلق- آیت کا یہ گہرا مفہوم صرف اس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ آدمی آیت پر تاریخ کی روشنی میں غوروتدبر کرے، اور یہ عقل کے استعمال کے بغیر نہیں ہوسکتا، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن میں کل ایک سو چودہ (114) سورتیں ہیں- اگر ان تمام سورتوں کو پڑھا جائے تو ان میں کہیں بھی قانون کی زبان نہیں ملے گی، بلکہ دعوت اور تذکیر کی زبان ملے گی، اور دعوت اور تذکیر کے معاملے کو درست طورپر صرف اس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ اس کو عقل کا استعمال کرکے جاننے کی کوشش کی جائے-

قرآن کا مطالعہ کیا جائے تو کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن معروف معنوں میں کوئی فقہی کتاب یا قانون کتاب نہیں ہے- قرآن میں کہیں بھی وہ اسلوب استعمال نہیں کیا گیا ہے جو فقہ کی کتابوں یا قانونی کی کتابوں میں اختیار کیا جاتا ہے- قرآن کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآن وزڈم کی کتاب (book of wisdom) ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content