ذاتی زندگی کا معاملہ ہو تو ایک شخص معیار (ideal)کا انتخاب کرسکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کے معاملے میں کبھی معیار کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا-اِس لیے اجتماعی زندگی کے بارے میں صحیح اصول یہ ہےکہ جب انتخابِ اول (first choice) ممکن نہ ہو تو انتخابِ ثانی (second choice) کو اختیار کرلیا جائے-
اِس اصول کی حکمت یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہوجاتا ہے- اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اِس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً ممکن ہی نہیں-
یہی فطری اصول پیغمبر کی سنت بھی ہے- مثلاً ہجرتِ مدینہ کے وقت فرسٹ چوائس یہ تھا کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد سے جو جزئی کامیابی ہوئی تھی، وہ مزید جدوجہد کے ذریعے مکمل کامیابی تک پہنچے- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ مکہ چھوڑ دیا جائے، تاکہ ٹکراؤ سے بچ کر پُرامن ماحول میں اپنا مشن جاری رکھا جائے- اُس وقت پیغمبر نے اپنے لیے سکنڈ چوائس کو اختیار کرلیا-اِسی طرح حدیبیہ کے موقع پر فرسٹ چوائس یہ تھا کہ سفر کو جاری رکھتے ہوئے آپ مکہ پہنچیں اور عمرہ کریں- اور سکنڈ چوائس یہ تھا کہ وہ درمیان میں اپنےسفر کو ختم کرکے مدینہ واپس چلے جائیں- پیغمبر نے اُس وقت بھی سکنڈ چوائس کو لینے کا فیصلہ کیا-
یہی فطرت کا اصول ہے اور یہی پیغمبر کی سنت بھی- اِس دنیا میں کسی بھی میدان میں کامیابی اِسی اصول کو اختیار کرکے حاصل ہوسکتی ہے- یہی قدیم زمانے میں بھی ممکن تھا او ر یہی موجودہ زمانے میں بھی ممکن ہے- فرسٹ چوائس ہمیشہ آدمی کی ذاتی خواہش کے مطابق ہوتا ہے، اِس لیے وہ ہمیشہ فرسٹ چوائس پر اصرا ر کرتا ہے، لیکن یہ طریقہ یقینی طورپر غیر عملی ہے- نتیجہ خیز طریقہ صرف یہ ہے کہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے آدمی سکنڈ چوائس پر راضی ہوجائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.