Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2014
Al-Risala June 2014

ترقی کا زینہ

Urdu · 2 min read

زندگی ہم وار راستے پر سفر کرنے کا نام نہیں۔ زندگی میں ہمیشہ وہ ناموافق صورتِ حال پیش آتی ہے جس کو بحران (crisis) کہا جاتا ہے۔ زندگی میں بحران سے بچنا ممکن نہیں۔ اِس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے کرائسس مینج مینٹ (crisis management) کے آرٹ کو جاننا۔ انسان کو عقل اِسی لیے دی گئی ہے کہ وہ اِس آرٹ کو جانے اور اس کو استعمال کرے۔

زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو بحران کوئی برائی نہیں، بحران ہر آدمی کے لیے ایک مفید تجربہ ہے۔ ہر بحران آدمی کے لیے کامیابی کا نیا موقع کھولتا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح فارمولا صرف ایک ہے— بحران کو ایک نئے موقع میں تبدیل کردو:

Turn the crisis into an opportunity.

انسان کو جو عقل دی گئی ہے، اس کے اندر بے پناہ امکانات چھپے ہوئے ہیں۔ عام حالات میں یہ امکانات سوئے ہوئے رہتے ہیں، معتدل حالات میں یہ امکانات کبھی نہیں جاگتے۔ یہ فطرت کا نظام ہے کہ انسان کی زندگی میں بحران پیدا ہو، تاکہ اس کا ذہن جاگے، تاکہ اُس کی عقلی صلاحیتیں بیدار ہو کر زیادہ بڑے بڑے کام کرسکیں۔ زندگی ایک چیلنج ہے اور چیلنج کا مقابلہ کرنا ہی وہ چیز ہے جو کسی انسان کے لیے ترقی کے دروازے کھولتاہے۔

بحران ہمیشہ فطرت کے نظام کے تحت پیش آتا ہے۔ اِس لیے کسی مفروضہ دشمن کے خلاف شکایت اور احتجاج کرنا ایک غیر متعلق بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب اس کی زندگی میںکوئی بحران پیش آئے تو وہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ وہ اپنی عقلی صلاحیتوں کو متحرک کرنے کی کوشش کرے۔ اِس کے بعدوہ دیکھے گا کہ بحران اس کے لیے ترقی کا نیا زینہ بن گیا ہے۔

یہ اصول فرد کے لیے بھی ہے اور قوم کے لیے بھی، ذاتی زندگی میں بھی کامیابی کا یہی راز ہے اور اجتماعی زندگی میں بھی کامیابی کا یہی راز۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.