Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala June 2014
Al-Risala June 2014

اپنی تاریخ سے کٹنا

Urdu · 5 min read

مولانا شبلی نعمانی نے 1913 میں اعظم گڑھ (یوپی) میں دارالمصنفین کا ادارہ قائم کیا- اس کے چند دنوں کے بعد 18 نومبر 1914کو 57 سال کی عمر میں اُن کا انتقال ہوگیا- مولانا شبلی نعمانی نے اپنے آخری دنوں میں اپنے شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی کو بلایا اور اُن کو دار المصنفین کا پورا چارج دے دیا-

other sourceWords of another person or source

مولانا سید سلیمان ندوی نے پوری سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ دارالمصنفین کا کام کیا اور دارالمصنفین کے بارے میں مولانا شبلی کے خواب کو واقعہ بنایا- بعد کو اپنے بعض ساتھیوںسے اُن کا اختلاف ہوا، یہاں تک کہ دل برداشتہ ہو کر 1946 میں انھوں نے دار المصنفین کو چھوڑ دیا- وہ پہلے بھوپال اور پھر پاکستان چلے گئے- دار المصنفین چھوڑنے کے 7 سال بعد 23 نومبر 1953 کو 69 سال کی عمر میں پاکستان (کراچی) میں ان کا انتقال ہوگیا- یہ 7 سال جو مولاناسید سلیمان ندوی نے  دارالمصنفین سے باہر گزارے، وہ بلاشبہہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ قیمتی سال تھے-مگر یہ قیمتی سال اپنی تاریخ چھوڑنے کی وجہ سے ضائع ہوگئے، وہ حقیقی طور پراستعمال نہ ہوسکے-

مولانا سید سلیمان ندوی جب دار المصنفین کو چھوڑنے کا ارادہ کررہے تھے، اُس وقت دار المصنفین میں اُن کے ایک ساتھی شاہ معین الدین احمد ندوی (وفات: 1974)موجود تھے- وہ اِس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ: ’’سید صاحب مہینوں اس کے بارے میں کش مکش میں مبتلا رہے- راقم سے بھی انھوں نے رائے پوچھی- میں نے عر ض کیا کہ کسی ادارے کے بانی کو اُسے چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کی یہ پہلی مثال ہوگی- فرمایا: یہ تو صحیح ہے، مگر دارالمصنفین میں سکون کے ساتھ رہنےکی شکل کیا ہے- اِس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا‘‘- (حیاتِ سلیمان، از: شاہ معین الدین احمد ندوی، صفحہ 515)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

شاہ معین الدین احمد ندوی نے دار المصنفین نہ چھوڑنے کا جو مشورہ دیا، وہ بلاشبہہ اپنے آپ میں ایک درست مشورہ تھا، لیکن مشورہ دینے کا جو انداز تھا، وہ موثر نہیں ہوسکتا تھا- مولانا سید سلیمان ندوی دار المصنفین کے بانی (founder)نہیں تھے- مزید یہ کہ اِس مشورے میں یہ بات واضح نہ تھی کہ دار المصنفین چھوڑنے کا نقصان کیا ہے- ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات تھی کہ یہ مشورہ مولانا سیدسلیمان ندوی کے مائنڈ کو ایڈریس نہ کرے اور وہ ان کے لیے قابلِ قبول نہ ہوسکے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ مولانا سید سلیمان ندوی کا دار المصنفین چھوڑنا کوئی سادہ بات نہ تھی- یہ خود اپنی بنائی ہوئی تاریخ کو چھوڑنے کے ہم معنی تھا، اور کوئی بھی شخص اپنی بنائی ہوئی تاریخ کو چھوڑنے کا تحمل نہیں کرسکتا- لوگوں کی نظر میں انسان کی حیثیت اس کی تاریخ سے متعین ہوتی ہے اور تاریخ ہمیشہ کسی ماحول میں بنتی ہے- جو آدمی اپنے ماحول کو چھوڑدے، اس نے اپنی بنائی ہوئی تاریخ کوچھوڑدیا- کوئی بھی دوسری چیز اِس غلطی کی تلافی نہیں کرسکتی-

مولانا سید سلیمان ندوی 33 سال دار المصنفین میں رہے- اِس 33 سال میں انھوں نے اپنی علمی تاریخ بنائی، لیکن اگر توسیعی اعتبار سے دیکھئے تو یہ مدت اور زیادہ لمبی ہے- مولانا سید سلیمان ندوی وابستگانِ شبلی کی حیثیت سے 1907 میں نمایاں ہوئے- یہ وہ سال ہے جب کہ مولانا شبلی ندوة العلما (لکھنؤ) میں تھے اور مولانا سید سلیمان ندوی ان کے شاگرد تھے-اُس وقت ندوہ میں ایک سالانہ جلسہ ہوا- اِس موقع پر مولانا سید سلیمان ندوی نے عربی میں ایک برجستہ تقریر کی- اِس تقریر سے مولانا شبلی نعمانی اتنا زیادہ خوش ہوئے کہ انھوںنے عین جلسہ گاہ میں اپنے سر کی پگڑی اتار کر مولانا سید سلیمان ندوی کے سر پر رکھ دی- (ملاحظہ ہو: حیاتِ سلیمان، صفحہ 28-27)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس اعتبار سے دیکھئے تو مولانا سید سلیمان ندوی کی علمی تاریخ 1907 سے شروع ہوتی ہے- گویا کہ 1946میں جب سید صاحب نے دار المصنفین کو چھوڑا تو اُن کی علمی تاریخ کی مدت تقریباً 40 سال ہوچکی تھی- یہ چالیس سالہ تاریخ مولانا سید سلیمان ندوی کا سب سے بڑا سرمایہ تھی- وہ اگر دار المصنفین میں رہتے تو وہ اپنی اِس 40 سالہ تاریخ کے درمیان رہتے- اُن کی ہر تقریر اور تحریر میں اِس 40 سالہ تاریخ کا وزن شامل رہتا، مگر انھوں نے اِس حقیقت کو نہیں سمجھا اور خود اپنی تاریخ سے اپنے آپ کو کاٹ لیا- اِس طرح یہ ہوا کہ اُن کے لیے جو رول مقدر تھا، اُس کو ادا کیے بغیر وہ اِس دنیا سے چلے گئے-

دار المصنفین کو چھوڑنے کا جواز مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ بتایا تھاکہ دار المصنفین میں سکون کے ساتھ رہنےکی شکل نہیں- مولانا سید سلیمان ندوی کے اِس جملے کی حیثیت عذر کی نہیں، بلکہ بے خبری کی ہے- مولانا سید سلیمان ندوی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت نگار تھے- یہ بلاشبہہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام نے اُس سے بہت زیادہ بے سکونی کے حالات میں کام کیا جو مولانا سید سلیمان ندوی کو دارالمصنفین میں پیش آئے- اِس کا اندازہ پیغمبر اسلام کی اہلیہ حضرت عائشہ کے اِس قول سےہوتاہے کہ: حطمہ الناس (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1215 ) یعنی لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا-

مولانا سید سلیمان ندوی نے پیغمبر اسلام کی سیرت لکھی، مگر اِس معاملے میں انھوں نے پیغمبراسلام کی زندگی سے سبق حاصل نہیں کیا- اگر وہ سبق حاصل کرتے تو وہ کبھی ایسی غلطی نہ کرتے کہ بے سکونی کو اپنے لیے عذر بنا لیتے، حالاں کہ بے سکونی سرے سے کوئی عذ ر ہی نہیں- اِس دنیا میں بے سکونی کو مینیج (manage) کرنا ہے، نہ کہ اُس کو عذر بنانا- یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس: الصحة والفراغ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5962)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کوئی ادارہ اپنے آپ میں مقدس نہیں ہوتا- کسی ادارے کو چھوڑنا کوئی گناہ کی بات نہیں- لیکن ادارے کو چھوڑنے کی دو صورتیں ہیں— ایک ہے ذاتی شکایت (personal grievance) کی بنا پر چھوڑنا، اور دوسرا ہے اصول (principle) کی بنا پر چھوڑنا- ذاتی شکایت کی بنا پر ادارے کا چھوڑنا ہرگز درست نہیں، کیوں کہ ذاتی شکایت حقیقتاً فطرت کے نظام کا حصہ ہے، نہ کہ کسی کے ناروا سلوک کا حصہ- البتہ اصول کی بنا پر کسی ادارے کو چھوڑنا بلا شبہہ جائز ہے، کیوں کہ اصول کا تعلق دینِ حق سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی اپنی ذات سے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content