امام مالک نے اپنی کتاب الموطا میں ایک باب کے تحت یہ روایت نقل کی ہے- باب کا عنوان ہے: باب ماجاء فی التُّقى-
قال مالک: وبلغنی أن القاسم بن محمد کان یقول: أدرکتُ الناس ما یعجبون بالقول- قال مالک: یرید بذلک العمل- إنما یُنظر إلى عملہ، ولا ینظر إلى قولہ- یعنی مالک نے کہا کہ مجھ کو قاسم بن محمد تابعی کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے ایسے لوگ (صحابہ) پائے ہیں جن کا حال یہ تھا کہ وہ قول پر خوش یا متعجب نہیں ہوتے تھے- مالک نے کہا کہ اِس سے ان کی مراد عمل تھا- بے شک کسی انسان کا عمل دیکھا جائے گا، اس کا قول نہیں دیکھا جائے گا-
اِس روایت میں ایک اہم حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ انسان کا قول اس کی پہچان نہیں ہے- کسی انسان کی حقیقی پہچان وہ ہے جو عملی تجربے کے بعد سامنے آئے- کسی شخص کے قول میںاس کی حقیقی شخصیت ظاہر نہیں ہوتی- لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ جب کسی بات کو کہتے ہیں تو وہ اس کو کہتے ہوئے اپنے موافق بات کو مبالغے کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اور جوبات ان کے لیے غیر موافق ہے، اس کو وہ یا تو بیان نہیں کرتے یا گھٹا کر بیان کرتے ہیں- کسی بات کے ایک پہلو کو بڑھاکر بتانا اورا س کے دوسرے پہلو کو کم کرکے بتانا، یہ ایک ایسی عادت ہے جو تقریباً ہر انسان میں ہوتی ہے- اِسی عادت کے ذریعے وہ اپنی حقیقی شخصیت کو چھپائے رہتا ہے-
کسی انسان کی حقیقی شخصیت صرف اُس وقت سامنے آتی ہے جب کہ وہ ٹسٹ (test)پر آجائے- آدمی قول میں اپنی شخصیت کو چھپا سکتا ہے، لیکن عملی تجربے میں اپنی حقیقی شخصیت کو چھپانااس کے لیے ممکن نہیں ہوتا — دانش مند وہ ہے جو کسی شخص کے بارے میں اس کے حقیقی عمل کو دیکھ کر رائے بنائے، نہ کہ اس کی خوش نما تحریر و تقریرکو سن کر-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔