انڈیا کی ایک مسلم تنظیم کے اجتماع میں ایک مشہور مسلم اسکالر کی تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد حاضرین میں سے ایک مسلمان نے پوچھا کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت میں ہیں، غیر مسلم لوگ یہاں اکثریت میں ہیں۔ ایسی حالت میں، ہندستانی مسلمانوں کے لیے اسلام میں کیا رہنمائی دی گئی ہے۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مقرر نے جواب دیا: یہ ایک مشکل سوال ہے۔ کیوں کہ اسلام میں پوزیشن آف اسٹرینتھ (position of strength) کا ماڈل موجود ہے، مگر اسلام میں پوزیشن آف ماڈسٹی (position of modesty) کا ماڈل موجود نہیں۔
یہ جواب بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم اسکالر اور مسلم رہنما اسلام کے نام سے صرف بعد کو بننے والی مسلم تاریخ کو جانتے ہیں، وہ دورِ اول میں بننے والے پیغمبرانہ ماڈل کو نہیں جانتے، حالاں کہ دورِ اول کا ماڈل تمام تر پوزیشن آف ماڈسٹی ہی پر مبنی ہے۔ یہ بعد کو قائم ہونے والے مسلم ایمپائر کی بات ہے، جب کہ وہ ماڈل بنا جس کو پوزیشن آف اسٹرینتھ کا ماڈل کہاجاتا ہے۔
دورِ اول میں اسلام کا ماڈل کیا ہے، وہ واضح طورپر قرآن میں موجود ہے۔ پیغمبر کو قرآن کی ابتدائی دور کی سورہ المدثر میں مخاطب کرتے ہوئے کہاگیا ہے: یٰٓاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَاَنْذِرْ وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ (74: 1-3)یعنی اے پیغمبر، تم پرامن انداز میں دعوت الی اللہ کا فکری کام کرو اور پولٹکل سسٹم کے معاملے میں تم مکمل طورپر عدم تعرض کا طریقہ (non-confrontational method) اختیار کرو۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دورِ اول کا پیغمبرانہ ماڈل دو بنیادی اصولوں پر مبنی تھا — دعوہ ایکٹوزم (dawah activism) ، اور پولٹکل اسٹیٹس کوازم (political statusquoism)، یعنی پرامن ذرائع سے دعوت کا عمل کرنا اور سیاسی معاملات میں کامل طورپر عدم ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہی پیغمبرانہ ماڈل اسلام کا اصل ماڈل ہے اور مسلمانوں کو اِسی پیغمبرانہ ماڈل کو اختیار کرنا ہے، مسلم اقلیت کے علاقے میں بھی، اور مسلم اکثریت کے علاقے میں بھی۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔