← Al-Risala June 2014Al-Risala June 2014
ردِ ّ عمل کی سیاست
Urdu · 5 min read
بیسویں صدی عیسوی میں تمام دنیا کے مسلمانوں کے اندر ایسی تحریکیں اٹھیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کے سیاسی اور قانونی نظام کو قائم کیا جائے۔ عرب دنیا میں سید قطب (وفات: 1966 )، برصغیر ہند میں سید ابو الاعلی مودودی (وفات: 1979 ) انڈونیشیا میں عبد القہار مذکر (وفات: 1965 )، سوڈان میں حسن تُرابی (پیدائش: 1932 )اِس کی مثالیں ہیں۔ اِن لوگوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے مسلمانوں میں سیاسی احیا(political revival) کی کوشش کی۔
اِس قسم کی سیاسی تحریکیں، سب کی سب، رد عمل (reaction)کی تحریکیں تھیں۔ وہ نو آبادیاتی دور (colonial age) کے خلاف رد عمل کے طور پر پیدا ہوئیں۔ وہ اصلاً قومی سیاسی تحریکیں تھیں، لیکن اُن کو مسلمانوں کے درمیان اِس لیے مقبولیت حاصل ہوگئی، کیوں کہ اُن کے رہنماؤں نے انھیں اسلام کی اصطلاحوں میں بیان کیاتھا۔
جس زمانے میں نو آبادیاتی طاقتوں کا ظہور ہوا، اُس زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں مسلم سلطنتیں قائم تھیں۔ بر صغیر ہند میں مغل سلطنت، ترکی اور عرب ممالک میں عثمانی سلطنت، وغیرہ۔ اِسی طرح ایشیا اور افریقہ کے بیش تر علاقے، مسلم سلطنت کے تابع تھے۔نوآبادیاتی طاقتیں جب مسلم دنیا میں داخل ہوئیں تو اُس وقت کی مسلم سلطنتوں نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، لیکن فوجی اور اقتصادی اعتبار سے نو آبادیاتی طاقتوں (colonial powers)کو برتری حاصل تھی، اِس لیے ہر میدان میں وہ غالب آتی چلی گئیں۔ یہ صورتِ حال، مسلم رہ نماؤں کے لیے ناقابلِ برداشت تھی، چناں چہ وہ ان کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔یہ جدوجہد ابتدا ء ًغیر مسلّح انداز میں شروع ہوئی۔ مثلاً سید ابوالاعلیٰ مودودی نے لٹریچر تیار کرکے اس کو پھیلانا شروع کردیا۔ اِس لٹریچر میں اسلام کو اِس حیثیت سے پیش کیاگیا تھا کہ اسلام کے وجود وبقا کے لیے سیاسی غلبہ لازمی طورپر ضروری ہے۔ اِس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم دوبارہ اسلام کو سیاسی اعتبار سے غالب کرنے کی کوشش کریں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اِسی درمیان 1948 میں فلسطین میں اسرائیل کا قیام عمل میںآیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے بے حد ناقابلِ برداشت تھا۔ بال فور ڈکلریشن کے مطابق، یہودیوں کو محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت ، فلسطین کے ایک علاقے میں واپسی کی اجازت دی گئی۔ اصولاً یہ کوئی غلط فیصلہ نہ تھا۔ کیوں کہ یہ یہودی دراصل ڈائس پورا (diaspora)سے تعلق رکھنے والے تھے۔ اور ڈائس پورا سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی فلسطین واپسی خود قرآن (5:21)کے مطابق، اصولاً درست تھی، لیکن مسلمان جو پہلے سے نو آبادیاتی مسئلے کی بنا پر مغربی قوموں سے برہم تھے، وہ مزید شدت کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہوگئے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
سیاسی جہاد کی یہ تحریکیں ابتداء ً پُرامن انداز میں شروع کی گئیں، لیکن پرامن انداز جب پیشِ نظر مقصد کے لیے مفید ثابت نہیں ہوا، تو جہاد کے نام پر مسلّح تحریک شروع کردی گئی۔ مگر رہنماؤں نے دوبارہ یہ دیکھا کہ مسلّح جہاد سے بھی وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں، تو اس کے بعد انھوں نے خود کش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کرلیا۔ خوکش بم باری بلاشبہہ اسلام میں حرام تھی، لیکن مسلم رہنماؤں نے اُسے استشہاد (طلب شہادت) کا نام دے کر اپنے لیے اس کو بطور خود جائز قرار دے دیا۔
اکیسویں صدی کے آغاز میں جوصورتِ حال ہے، وہ یہ کہ مسلح جہاد اور خود کُش بم باری کے باوجود، مسلم رہنما اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلح جہاد عملاً کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا ہے۔ اِس نام نہاد جہاد کے ذریعے مسلمان کچھ حاصل تو نہ کرسکے، البتہ جو کچھ انھیں حاصل تھا، اس کو بھی انھوں نے کھو دیا۔اِس معاملے کو خالص اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے، تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلم رہنماؤں کا رد عمل، خواہ وہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف ہو، یا اسرائیل کے خلاف، وہ اسلام سے انحراف کا نتیجہ تھا، نہ کہ اسلام کی پیروی کا نتیجہ۔ اِس معاملے میں مسلم رہنماؤں کی تحریکیں صحیح ڈائرکشن سے ہٹی ہوئی تھیں، وہ فطرت کے قانون کی خلاف ورزی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود اُنھیں اپنے مطلوب مقصد میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
اِس معاملے کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے، تو قرآن میں ایک واضح آیت موجود ہے، جو اِس معاملے میں رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن کی سورہ آل عمران میںاِسی قسم کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے، فطرت کا یہ اصول بتایا گیا تھا: تلک الأیّام نداولہا بین الناس(2:140) یعنی سیاسی اقتدار کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly)نہیں، سیاسی اقتدار کبھی ایک گروہ کے پاس رہے گا اور کبھی دوسرے گروہ کے پاس۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ جب سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہو، تو اس کے خلاف رد عمل کرنا کوئی صحیح پالیسی نہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی اِس تعلیم کا مقصد خود سپردگی اور پسپائی نہیں ہے، وہ دراصل ایک اعلیٰ حکمت ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ منفی رد عمل کے بجائے، مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کا مقابلہ کیا جائے۔جب بھی سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہوتی ہے، تو وہ صرف تبدیلی کے ہم معنیٰ نہیںہوتی، بلکہ اِسی کے ساتھ وہ نئے مواقع کے ظہور کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، جو خدا نے قائم کیا ہے۔ جب بھی کوئی قوم دیر تک اقتدار کی حالت میں رہے، تو اس کے اندر جمود پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیت (creativity) ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی تبدیلی در اصل اِس لیے ہوتی ہے کہ اُس قوم کے جمود(stagnation) کو توڑا جائے۔ چیلنج کی صورت حال پیدا کرکے اُس کے اندر نئی بیداری لائی جائے۔ ہر گروہ لمبے اقتدار کے بعد ایک غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) بن جاتا ہے۔ سیاسی اقتدارمیں تبدیلی دراصل اِس لیے ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ایک تخلیقی گروہ (creative group) بنایا جائے۔
مسلم رہنما اگر فطرت کے اِس قانون (law of nature)کو سمجھتے، تو ان کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ اُس کو وہ اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں اور مثبت ذہن کے تحت، پُرامن طورپر وہ اس کا سامنا کریں، جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعدجاپان نے امریکا کے مقابلے میں کیا اور کامیابی حاصل کی۔ مگر مسلم رہنمااِس راز کو نہ سمجھ سکے۔ وہ منفی رد عمل کا شکار ہوگئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اِس دنیا میں مثبت رد عمل کا نتیجہ مثبت صورت میں نکلتا ہے، اور منفی رد عمل کا نتیجہ منفی صورت میں۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون ہے، اِس میں کسی بھی گروہ کا کوئی استثنا نہیں۔(2009)